اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیو ز ) اسرائیل نے غزہ میں ایک روزہ شدید بمباری کے بعد جنگ بندی (Ceasefire) پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز (Reuters) کے مطابق اسرائیلی فوج نے بیان میں کہا ہے کہ وہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کرے گی، تاہم اگر فلسطینی مزاحمتی گروہوں کی جانب سے کسی بھی خلاف ورزی کی گئی تو اس کا "سخت جواب” دیا جائے گا۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 104 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 46 بچے اور 20 خواتین شامل ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ متعدد رہائشی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، اور ہسپتالوں میں لاشوں اور زخمیوں کی آمد کے باعث شدید افراتفری ہے۔سوشل میڈیا پر جاری ویڈیوز میں کئی خواتین اور بچوں کی لاشیں اسپتالوں میں قطاروں کی صورت میں دکھائی دے رہی ہیں، جو اس سانحے کی سنگینی کو واضح کرتی ہیں۔
اسرائیلی فوج کا مؤقف
اسرائیلی فوج نے الزام عائد کیا کہ "حماس نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی” کرتے ہوئے اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک ہوا۔فوج کے مطابق، اسی حملے کے جواب میں غزہ کے مختلف علاقوں پر فضائی کارروائیاں کی گئیں، جن میں حماس کے متعدد ارکان کو نشانہ بنایا گیا۔اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں ایک اہم کمانڈر سمیت کئی جنگجو مارے گئے اور اسلحہ ذخیرہ گاہیںاور زیرِ زمین سرنگیں تباہ کر دی گئیں۔
دوسری جانب، حماس نے اسرائیلی الزامات کو "بنیاد سے عاری” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ 10 اکتوبر کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر مکمل عمل کر رہی تھی اوررافاہ کے مقام پر کسی قسم کا حملہ نہیں کیا گیا۔حماس کے ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کی طرف سے کیے گئے حملے دراصل "معاہدے کی صریح خلاف ورزی” ہیں اور ان کا مقصد جنگ بندی کو سبوتاژ کرنا ہے۔
عالمی ردِعمل اور انسانی بحران
غزہ میں جاری انسانی المیے پر عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے۔بین الاقوامی تنظیموں کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک 69 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جب کہ لاکھوں افراد زخمی یا بے گھر ہو گئے ہیں۔بجلی، پانی اور ادویات کی کمی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے، اور اسپتال زخمیوں سے بھر چکے ہیں۔