اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کی مسلح افواج سے وابستہ اہم یونٹ خاتم الانبیا فورس کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے امریکا کو سخت الفاظ میں خبردار
کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا قبضے کی کوشش کا انجام امریکی فوجیوں کی “ذلت آمیز قید” کی صورت میں نکلے گا۔ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق اپنے بیان میں ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ متعدد بار ایران کے خلاف زمینی کارروائی اور خلیج فارس کے جزائر پر قبضے کی دھمکیاں دے چکے ہیں، تاہم اگر ایسی کوئی کوشش کی گئی تو امریکی کمانڈرز اور فوجیوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے انتہائی سخت لہجے میں کہا کہ امریکی فوجیوں کو خلیج فارس میں “شارک مچھلیوں کی خوراک” بنا دیا جائے گا۔
ترجمان نے مزید کہا کہ ٹرمپ صرف طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور ان کی پالیسیوں نے نہ صرف امریکا بلکہ یورپ اور خصوصاً ایشیائی ممالک کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔انہوں نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دباؤ میں آکر ان کے “مہرے” بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ دنیا کے “سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والے صدر” ہیں اور ان کے بیانات غیر مستحکم اور ناقابلِ اعتماد ہیں۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ (مجلسِ شوریٰ) کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی امریکا پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن سفارتی کوششوں کو دراصل ممکنہ فوجی کارروائی کی تیاری چھپانے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی پیش قدمی سنگین نتائج کا باعث بنے گی، اور ایرانی افواج مکمل طور پر تیار ہیں۔ “ہمارے جوان آپ کا انتظار کر رہے ہیں”، انہوں نے اپنے بیان میں کہا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، تاہم بعض رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بالواسطہ مذاکرات بھی جاری ہیں، جن میں پاکستان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف سخت بیانات اور دوسری جانب سفارتی رابطے خطے کی پیچیدہ صورتحال کو ظاہر کرتے ہیں۔عالمی مبصرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی امن اور معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔