ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل آئی سی سی اور ڈبلیو سی اے میں تنازعہ شدت اختیار کرگیا 

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )  ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کو ایک نئے اور سنجیدہ چیلنج کا سامنا ہے

جہاں عالمی سطح پر کرکٹرز کی نمائندہ تنظیم ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن (ڈبلیو سی اے) کے ساتھ اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ دونوں اداروں کے درمیان کھلاڑیوں کی ٹرمز اینڈ کنڈیشنز، بالخصوص نام، تصویر اور لائیکنیس (این آئی ایل) حقوق کے معاملے پر شدید اختلاف پیدا ہو گیا ہے۔

کرک انفو کے مطابق یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ورلڈ کپ کے آغاز میں زیادہ وقت باقی نہیں اور انتظامی سطح پر ہم آہنگی ٹورنامنٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈبلیو سی اے کا مؤقف ہے کہ آئی سی سی کی جانب سے ورلڈ کپ میں شریک کئی ممالک کے کھلاڑیوں کو جو نئی شرائط بھیجی گئی ہیں، وہ 2024 میں دونوں اداروں کے درمیان طے پانے والے معاہدے سے مختلف ہیں۔ کھلاڑیوں کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ نیا مسودہ نہ صرف باہمی اتفاق کے بغیر تیار کیا گیا ہے بلکہ اس میں کھلاڑیوں کے حقوق محدود اور زیادہ استحصالی نوعیت کے ہیں۔

ڈبلیو سی اے کے مطابق 2024 کے معاہدے میں کھلاڑیوں کے نام، تصویر اور لائیکنیس کے استعمال سے متعلق واضح اور متوازن اصول طے کیے گئے تھے، تاہم موجودہ ورژن میں ان حقوق کو آئی سی سی اور اس کے تجارتی شراکت داروں کے حق میں زیادہ وسیع کر دیا گیا ہے، جس پر کھلاڑیوں کو شدید تحفظات ہیں۔کھلاڑیوں کی نمائندہ تنظیم نے ان خدشات کے حوالے سے آئی سی سی کو باضابطہ خط بھی ارسال کر دیا ہے۔ تاہم کرک انفو کے مطابق آئی سی سی نے ان اعتراضات سے اتفاق کرنے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 2024 کا معاہدہ صرف آٹھ نیشنل گورننگ بورڈز (این جی بیز) تک محدود تھا اور اس کا اطلاق ورلڈ کپ میں شریک تمام ممالک پر نہیں ہوتا۔

آئی سی سی نے واضح کیا ہے کہ ورلڈ کپ میں شریک دیگر ممالک کے کھلاڑی اس معاہدے کے دائرہ کار میں نہیں آتے، اس لیے ان پر نئی شرائط لاگو کی جا سکتی ہیں۔ان آٹھ این جی بیز میں آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقا، ویسٹ انڈیز، آئرلینڈ، نیدرلینڈز اور اسکاٹ لینڈ شامل ہیں، جب کہ بنگلہ دیش اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔ٹورنامنٹ میں شریک دیگر 12 ممالک میں پاکستان، بھارت، نیپال، عمان اور متحدہ عرب امارات سمیت کئی ٹیمیں شامل ہیں، جو ورلڈ کرکٹرز ایسوسی ایشن کو تسلیم نہیں کرتیں، جس کے باعث ان ممالک کے کھلاڑی اس تنظیم سے منسلک نہیں ہیں۔

کرکٹ حلقوں میں اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ کھلاڑیوں کے حقوق سے متعلق یہ تنازع نہ صرف آئی سی سی کی ساکھ کو متاثر کر سکتا ہے بلکہ ورلڈ کپ سے قبل انتظامی اور قانونی پیچیدگیاں بھی پیدا کر سکتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریقین کے درمیان جلد اتفاقِ رائے نہ ہوا تو اس کا اثر ٹورنامنٹ کی تیاریوں، کھلاڑیوں کی ذہنی یکسوئی اور ممکنہ طور پر تجارتی معاہدوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ورلڈ کپ جیسے بڑے ایونٹ سے قبل اس نوعیت کے تنازعات نے آئی سی سی کے لیے ایک نئے بحران کی صورت اختیار کر لی ہے، جس کے حل کے لیے فوری اور مؤثر مذاکرات ناگزیر سمجھے جا رہے ہیں۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں