اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)ایئر کینیڈا کے سربراہ مائیکل روسو کو بدھ کے روز شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس میں وزیرِاعظم مارک کارنی بھی شامل تھے، کیونکہ انہوں نے اتوار کو نیویارک میں پیش آنے والے مہلک طیارہ حادثے کے بعد تعزیتی پیغام صرف انگریزی میں جاری کیا۔
مائیکل روسو کو اب ایوانِ نمائندگان کی سرکاری زبانوں سے متعلق کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کے لیے طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے چار منٹ کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں صرف دو فرانسیسی الفاظ “بونژور” اور “مرسی” شامل تھے، جس پر عوامی ردعمل شدید سامنے آیا۔سرکاری زبانوں کے نگران ادارے کو منگل کی دوپہر تک اس ویڈیو کے خلاف چوراسی شکایات موصول ہو چکی تھیں۔
وزیرِاعظم مارک کارنی نے اوٹاوا میں لبرل ارکان کے ہفتہ وار اجلاس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صرف انگریزی میں تعزیتی پیغام جاری کرنا ہمدردی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کینیڈا ایک دو لسانی ملک ہے اور ایئر کینیڈا جیسی کمپنیوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ہر حالت میں دونوں سرکاری زبانوں میں رابطہ کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ اس یک لسانی پیغام پر شدید مایوس ہیں اور یہ اقدام ناقص فیصلے اور ہمدردی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے، خصوصاً ایسے حساس موقع پر۔
یہ پرواز مونٹریال سے لاگارڈیا ہوائی اڈے جا رہی تھی، اور مسافروں اور عملے میں بڑی تعداد فرانسیسی زبان بولنے والے کینیڈین شہریوں کی تھی۔ ہلاک ہونے والے دو پائلٹس میں سے ایک آنتوان فاریسٹ بھی شامل تھے۔آنتوان فاریسٹ اور میکنزی گنتھر اس وقت جاں بحق ہوئے جب ان کا طیارہ لینڈنگ کے دوران رن وے پر موجود فائر بریگیڈ کی گاڑی سے ٹکرا گیا۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ مائیکل روسو کو فرانسیسی زبان کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ سن دو ہزار اکیس میں مونٹریال میں ایک تقریب کے دوران انہوں نے تقریباً مکمل طور پر انگریزی میں خطاب کیا تھا اور یہ کہہ کر مزید تنازع پیدا کیا تھا کہ وہ چودہ برس شہر میں رہنے کے باوجود فرانسیسی زبان بولنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
قدامت پسند جماعت کے رکن پارلیمان جوئیل گوڈین نے کہا کہ ایئر کینیڈا کے سربراہ نے عہدہ سنبھالتے وقت فرانسیسی زبان سیکھنے کا وعدہ کیا تھا اور کمپنی پر لازم ہے کہ وہ سرکاری زبانوں کے قانون کا احترام کرے۔وزیرِاعظم کارنی نے مزید کہا کہ کینیڈین حکام اس حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے امریکی حکام کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔