اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پنجاب اور خیبرپختونخوا میں فضائی آلودگی کے خطرناک اثرات جاری ہیں جس کے باعث سانس کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں۔ ماحولیاتی ویب سائٹس کے مطابق لاہور فضائی آلودگی کے اعتبار سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے جہاں سموگ کی اوسط شرح تین سو چونتیس ریکارڈ کی گئی ہے۔
شہر کے مختلف علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس زیادہ ریکارڈ ہوا ہے علامہ اقبال ٹاؤن سات سو چونتیس شالیمار سات سو بیس جوہر ٹاؤن پانچ سو اسی لوئر مال چار سو نوبے اور کینٹ کے اطراف چار سو تئیس
صوبائی دیگر شہروں میں بھی فضائی معیار تشویش ناک ہے گوجرانوالہ چھ سو پینتالیس فیصل آباد دو سو پچھتر بہاولپور دو سو ترانو پشاور چار سو چون
بھارتی دارالحکومت دہلی سب سے آلودہ شہر ہے جہاں ایئر کوالٹی انڈیکس پانچ سو دو ریکارڈ کیا گیا
محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں درجہ حرارت اس وقت سولہ ڈگری سینٹی گریڈ ہے کم سے کم گیارہ اور زیادہ سے زیادہ چھبیس ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے ہوا میں نمی کا تناسب چونہتر فیصد تک اور ہوا کی رفتار دو کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے جس کی وجہ سے فضائی آلودگی زیادہ دیر تک برقرار رہ رہی ہے
دسمبر کے آغاز میں لاہور میں بادل برسنے کے امکانات ہیں تاہم ماہرین صحت شہریوں کو محتاط رہنے، ماسک پہننے اور بچوں و بزرگوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایت کر رہے ہیں
ماحولیاتی ادارے اور حکومت کی جانب سے شہریوں کی حفاظت کے لیے آگاہی اور حفاظتی اقدامات پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ فضائی آلودگی کے نقصان دہ اثرات کم کیے جا سکیں