اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)البرٹا کے ایمرجنسی روم کے ڈاکٹروں نے صوبائی حکومت کو بھیجے گئے ایک خط میں ایسے ہولناک زمینی حقائق بیان کیے ہیں جن میں قابلِ تدارک اموات، مریضوں کی تذلیل اور شدید اذیت شامل ہے۔ ایک ڈاکٹر نے ان ایمرجنسی وارڈز کو “موت کے زون” قرار دیا ہے۔
ڈاکٹر پال پارکس جو البرٹا میڈیکل ایسوسی ایشن کے شعبۂ ایمرجنسی میڈیسن کے صدرِ منتخب ہیں، نے پیر کے روز تصدیق کی کہ انہوں نے یہ خط گزشتہ ہفتے اسپتالوں کے وزیر میٹ جونز اور صحت کے دیگر اداروں کے سربراہان کو ارسال کیا تھا۔
یہ خط دی کینیڈین پریس کو موصول ہوا، تاہم پارکس نے کہا کہ انہوں نے اسے خود عوام میں لیک نہیں کیا۔پارکس اور دیگر ڈاکٹرز طویل عرصے سے حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اسپتالوں میں شدید بھیڑ کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
اس خط میں ایمرجنسی میڈیسن ایسوسی ایشن کی جانب سے سال کے ابتدائی دو ہفتوں کے دوران جمع کی گئی فرنٹ لائن کہانیوں کو گمنام انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ ان میں چھ ایسے واقعات شامل ہیں جو مریضوں کی موت پر منتج ہوئے، جبکہ 30 سے زائد “قریب الوقوع حادثات” (near misses) درج ہیں یعنی ایسے خطرناک طبی کیسز جن کی تشخیص انتظار گاہوں میں شدید بھیڑ کے باعث تاخیر کا شکار ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں :کلاس روم میں قدامت پسندوں پر تنقید، البرٹا کے استاد کی آڈیو پر تحقیقات شروع،ڈینیئل اسمتھ کا شدید رد عمل
پارکس خط میں لکھتے ہیں کہ یہ واقعات دراصل اس سنگین صورتحال کا “برفانی تودے کا صرف اوپری حصہ” ہیں جس کا سامنا فرنٹ لائن ہیلتھ ورکرز روزانہ کر رہے ہیں۔
انہوں نے لکھاہماری راہداریاں اور انتظار گاہیں موت کے زون بن چکی ہیں، اور ہم سوچتے ہیں کہ کتنے ‘ٹِک ٹِک کرتے بم’ اچانک مر جائیں گے، جبکہ انہیں ایک فعال ایمرجنسی کیئر اسپیس میں جان بچانے والا علاج ملنا چاہیے تھا۔”
خط میں کسی مریض یا ڈاکٹر کا نام شامل نہیں کیا گیا۔ واقعات کے حالات مختلف ہیں، مگر سب ایک ہی مسئلے سے جڑے ہوئے ہیں: مریض بہت زیادہ، عملہ بہت کم، اور وقت انتہائی محدود۔
ایک خاتون، جنہیں بعد میں آنتوں کی رکاوٹ کی تشخیص ہوئی، رات کی شفٹ کے دوران آٹھ گھنٹے تک انتظار کرتی رہیں۔ وہ سیپٹک ہو گئیں اور ایمرجنسی سرجری کے باوجود جانبر نہ ہو سکیں۔
ایک اور مریض بھری ہوئی راہداری میں علاج کے انتظار کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق ہو گیاایک مریض کو ایک ایمرجنسی ڈاکٹر سے دوسرے ڈاکٹر کے حوالے کیا جاتا رہا، جبکہ وہ تقریباً 24 گھنٹے تک کسی ماہر ڈاکٹر کو دکھائے جانے کا منتظر رہا۔ بالآخر وہ گردوں کی ناکامی سے وفات پا گیا۔
پچاس سالہ ایک شخص، جسے بخار، کمزوری اور دل کی تیز دھڑکن تھی، تقریباً آٹھ گھنٹے انتظار گاہ میں بیٹھنے کے بعد ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ چھوڑ کر چلا گیا۔ چند گھنٹوں بعد ایمبولینس کے ذریعے واپس لایا گیا، انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل کیا گیا، مگر شدید خون کے انفیکشن اور کئی اعضا کی ناکامی کے باعث اس کی موت ہو گئی۔
ان میں سے بعض واقعات ایڈمنٹن کے ایک شخص کی موت سے مشابہ ہیں، جس کا کیس کئی ہفتوں تک خبروں میں رہا اور حال ہی میں حکومت کو اس پر باقاعدہ تحقیقات (فیٹیلٹی انکوائری) کا حکم دینا پڑا۔
44 سالہ پرشانت سری کمار 22 دسمبر کو انتقال کر گئے، جب وہ سینے کے درد اور بڑھتے ہوئے بلڈ پریشر کے باوجود تقریباً آٹھ گھنٹے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں انتظار کرتے رہے۔ہسپتالوں کے وزیر میٹ جونز منگل کے روز کیلگری میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے والے تھے۔
جونز کے پریس سیکریٹری کائل وارنر نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ وزارت میڈیا میں گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ اور گمنام مریض معلومات پر رازداری اور قانونی وجوہات کی بنا پر تبصرہ نہیں کر سکتی، تاہم مریضوں کے نتائج سے متعلق ہر اطلاع کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔
وارنر نے کہا کہ ہر اسپتال میں اندرونی کوالٹی ایشورنس نظام موجود ہوتا ہے جو خودکار طور پر منفی نتائج والے کیسز کا جائزہ لیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہایہ بات بھی مدِنظر رکھنا ضروری ہے کہ ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ آنے والے افراد عموماً شدید بیمار یا بری طرح زخمی ہوتے ہیں، اور سب سے زیادہ ہنگامی اور جان لیوا مریضوں کو ہمیشہ پہلے دیکھا جاتا ہے۔”
وارنر کے مطابق، میٹ جونز نے البرٹا میڈیکل ایسوسی ایشن سے رابطہ کیا ہے تاکہ ایکیوٹ کیئر البرٹا (جو صوبے کے اسپتالوں کی نگرانی کرتا ہے) کے ساتھ ملاقات کر کے منصوبوں اور حل پر بات کی جا سکے۔
پارکس کا خط اس اعلان سے پہلے بھیجا گیا تھا جس میں جونز اور سینئر صحت حکام نے گزشتہ ہفتے صوبہ بھر میں گنجائش بڑھانے اور وسائل آزاد کرنے کے اقدامات پر اپ ڈیٹ دی تھی۔
یہ خط اس وقت سامنے آیا جب پارکس اور دیگر ڈاکٹرز عوامی سطح پر فوری کارروائی کے لیے مسلسل خطرے کی گھنٹی بجا رہے تھے۔
گزشتہ ہفتے جونز نے تسلیم کیا تھا کہ صوبہ کئی ہفتوں سے “شدید دباؤ” کا شکار ہے، جس کی وجوہات میں سانس کی بیماریوں میں اضافہ، آبادی میں تیز رفتار اضافہ، اور عمر رسیدہ مریضوں کی پیچیدہ طبی ضروریات شامل ہیں۔
انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ یکم فروری سے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس میں مریضوں کی دیکھ بھال کو تیز کرنے کے لیے ٹریاج لائژن فزیشن پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔