اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)البرٹا کی حکومت نے آئندہ چند برسوں میں جنگلاتی آگ سے نمٹنے کی صلاحیت بڑھانے کے لیے 40 کروڑ ڈالر خرچ کرکے پانچ نئے واٹر بمبر طیارے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اقدام صوبے کے پرانے ہوتے فضائی بیڑے کو جدید بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
یہ معاہدہ کیلگری میں قائم ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی ڈی ہیولینڈ ایئرکرافٹ کے ساتھ کیا گیا ہے۔ منصوبے کے مطابق پہلا طیارہ سال 2031 میں صوبے کے حوالے کیا جائے گا۔ یہ خصوصی طیارے پانی کی سطح پر اڑتے ہوئے محض 12 سیکنڈ میں تقریباً 6,100 لیٹر پانی اپنے ٹینک میں بھر سکتے ہیں، جس کے بعد فوری طور پر آگ پر پانی گرا کر شعلوں کو قابو کرنے میں مدد ملتی ہے۔
صوبائی وزیر برائے جنگلات ٹوڈ لووین کا کہنا ہے کہ حکومت پرانے طیاروں کی مکمل ریٹائرمنٹ کا انتظار نہیں کرنا چاہتی بلکہ پیشگی منصوبہ بندی کے تحت نئے طیارے شامل کر رہی ہے تاکہ ہنگامی حالات میں کسی قسم کی کمی نہ آئے۔ ان کے مطابق موجودہ طیاروں میں ابھی کام کرنے کی صلاحیت باقی ہے، تاہم بروقت تبدیلی ضروری ہے۔
پریمؒیئر ڈینیئل اسمتھ نے واضح کیا کہ یہ رقم اس سالانہ 16 کروڑ ڈالر سے الگ ہے جو صوبہ ہر سال جنگلاتی آگ سے نمٹنے کے لیے مختص کرتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دہائی میں البرٹا میں اوسطاً ایک ہزار سے زائد جنگلاتی آگ کے واقعات ہر سال سامنے آئے، جو ملک میں برٹش کولمبیا کے بعد دوسری بلند ترین شرح ہے۔ گزشتہ سال صوبے کے پاس 18 فضائی ٹینکر دستیاب تھے، جن میں سے چار صوبے کی ملکیت تھے اور 1986 سے 1988 کے دوران تیار کیے گئے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس خریداری سے تقریباً ایک ہزار روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ کمپنی کے سربراہ برائن چیف کے مطابق اتنے بڑے پیمانے پر آرڈر ملنا نہ صرف کاروباری لحاظ سے اہم ہے بلکہ یہ اس اعتماد کا اظہار بھی ہے جو صوبہ مقامی صنعت پر کرتا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس مینیٹوبا نے بھی اسی طرز کے تین طیارے خریدنے کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ کمپنی کے مطابق یہ طیارے موسمیاتی تبدیلی کے باعث طویل اور شدید ہوتے جنگلاتی آگ کے سیزن سے نمٹنے کے لیے خصوصی طور پر تیار کیے گئے ہیں۔