البرٹا حکومت کا اساتذہ کی ہڑتال کے بعد نئی کابینہ کمیٹی بنانے کا اعلان

اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے حکومت کی جانب سے ’’ناتھنڈنگ کلازاستعمال کر کے اساتذہ کو دوبارہ کام پر واپس بلانے کے خلاف عدالتی حکمِ امتناعی دائر کرنے کے اعلان کے ایک دن بعد البرٹا کی پریمیئرڈینیئل سمتھ اور وزیرِ تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ وہ کلاس روم میں موجود مسائل اور پیچیدگیوں کو حل کرنے کے لیے ایک نئی کابینہ کمیٹی تشکیل دے رہے ہیں۔

حکومت کے مطابق یہ کمیٹی پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کرے گی اور ان مسائل سے نمٹنے کے لیے وسائل مختص کرے گی جو طویل عرصے سے اساتذہ، طلبہ اور والدین کی جانب سے اٹھائے جا رہے تھے اور جو اس ہڑتال کی بنیادی وجوہات میں شامل تھے جس کا خاتمہ اس وقت ہوا جب حکومت نے ایک ایسا معاہدہ نافذ کر دیا جو پہلے یونین کے اراکین نے مسترد کر دیا تھا۔
سمتھ نے کہا کہ یہ معاملہ مذاکراتی عمل پر مکمل طور پر حل نہیں ہو سکتا تھا، اسی لیے ناتھنڈنگ کلاز کا استعمال اور اس کے بعد کمیٹی کا قیام ضروری ہو گیا۔
ان کے مطابق یہ ایک منفرد صورتِ حال تھی — وہ نہیں جو ہماری پہلی ترجیح ہوتی۔ ہم چاہتے تھے کہ ہڑتال بات چیت کے ذریعے ختم ہو، لیکن ایسا نہیں ہوا لہٰذا یہ ہمارا ردِعمل ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیں :البرٹا میں ابتدائی طلبہ کے لیے لازمی خواندگی و ریاضی ٹیسٹ کی تجویز،اساتذہ کا سخت ردِعمل
ہم نے اساتذہ سے کہا تھا کہ ہم نے ان کی بات صاف طور پر سنی ہے، کہ کلاس روم کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے سمتھ نے وضاحت کی کہ حکومت جن حلوں پر غور کر رہی ہے ان میں سے ایک سَسکیچیوان میں ہڑتال کے بعد اختیار کیا گیا ماڈل ہے جس کے تحت خصوصی کلاس رومز میں طلبہ کی حد 15 تک رکھی جاتی ہے جہاں ایک استاد اور دو تدریسی معاونین موجود ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا یہ وہ قسم کا مسئلہ ہے جسے آپ مذاکرات کی میز پر ایک فرضی ‘طالب علم استاد تناسب’ طے کر کے حل نہیں کر سکتے، بلکہ اس کے لیے اسی طرح کے باہمی تعاون کی ضرورت ہے جیسا ہم آج اعلان کر رہے ہیں۔
کمیٹی میں چار حکومتی وزراء اور وزیرِاعلیٰ ڈینیئل سمتھ شامل ہیں، ساتھ ہی مختلف اسکول بورڈز کے انتظامی افسران اور البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن کے معاون ایگزیکٹو سیکرٹری بھی حصہ ہوں گے۔
تاہم ووٹ ڈالنے کا اختیار صرف کابینہ کے اراکین کو حاصل ہوگا اسکول بورڈز کو 24 نومبر تک کمیٹی کو اپنا ڈیٹا جمع کرانے کی اجازت ہوگی۔
ATA کے صدر، جیسن شِلنگ کے اس اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام اساتذہ کے اجتماعی اقدام ا براہِ راست نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا گزشتہ دو سالوں سے اساتذہ نے کلاس سائز، پیچیدگی، اور مدد کی کمی جیسے مسائل پر آواز اٹھائی۔ مگر تبدیلی اُس وقت ممکن ہوئی جب 51 ہزار اساتذہ اور اسکول رہنماؤں نے متحد ہو کر جدوجہد کی۔
انہوں نے مزید کہا کہ بطور کلاس سائز اور پیچیدگی کابینہ کمیٹی کے شراکت دار ہم اساتذہ کا تجربہ اور عملی بصیرت فراہم کریں گے تاکہ بہتر کلاس روم ماحول کے لیے قابلِ عمل حل تلاش کیے جا سکیں۔
شِلنگ نے اس کمیٹی کو صحیح سمت میں ایک قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں جوابدہی اور عمل درآمد انتہائی ضروری ہے۔ان کے الفاظ میں ہم یہ یقینی بنائیں گے کہ حکومت اپنے وعدے پر عمل کرے اور حقیقی تبدیلی لائے اب وقت ہے کہ حکومت نقصان کا ازالہ کرے، اعتماد بحال کرے، اور البرٹا کے عوامی تعلیمی نظام کے ساتھ انصاف کرے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں