اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)البرٹا کی یو سی پی حکومت نے ایک ماہ کے اندر دوسری بار نان وِتھ اسٹینڈنگ کلاز استعمال کرتے ہوئے ٹرانس جینڈر نوجوانوں سے متعلق قانون سازی کو عدالتوں سے محفوظ بنانے کا اقدام اٹھایا ہے۔ منگل کو پیش کیے گئے بل 9 کے تحت حکومت نے اعلان کیا کہ تین متنازع قوانین کو آئینی چیلنجز سے بچانے کے لیے چارٹر کی اس خصوصی شق کو لاگو کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ ڈینیئل اسمتھ نے کہا کہ یہ فیصلہ بچوں کی صحت اور بہبود کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر مقدمات برسوں عدالتوں میں چلتے رہے تو نوجوانوں کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اسمتھ نے اسے ایک ’’سنگین صورتحال‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس شق کا استعمال صرف تب کرتی ہے جب معاملہ حد سے زیادہ اہم ہو۔
نان وِتھ اسٹینڈنگ کلاز جن تین قوانین پر لاگو ہو رہی ہے، ان میں بل 26 شامل ہے، جس کے تحت 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے جینڈر ری اسائنمنٹ سرجری، ہارمون تھراپی اور پربرٹی بلاکرز ممنوع ہوں گے۔ بل 27 میں اسکولوں کو پابند کیا گیا ہے کہ 16 سال سے کم عمر طلبہ کے نام یا ضمیروں کی تبدیلی صرف والدین کی اجازت سے ہو، جبکہ جنسی تعلیم کے لیے ’آپٹ اِن‘ نظام بھی متعارف کرایا گیا ہے۔ بل 29 کے تحت ٹرانس جینڈر لڑکیوں پر خواتین کی امیچر اسپورٹس میں شرکت کی پابندی عائد کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں :البرٹا حکومت کا نات وِتھ اسٹینڈنگ کلاز استعمال کرتے ہوئے 51 ہزار اساتذہ کو زبردستی کام پر واپس بلانے کا فیصلہ
حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام پر سخت ردعمل دیا ہے۔ فرینڈز آف میڈیکیئر نے اسے آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت جانتی ہے کہ یہ قوانین غیر آئینی ہیں، اسی لیے وہ غیر معمولی شق کا سہارا لے رہی ہے۔ این ڈی پی رہنما نہید نینشی نے بھی حکومت پر ’’شہری حقوق پر حملہ‘‘ کرنے کا الزام لگایا۔
دوسری جانب وزیرِ انصاف مِکی امیری کا کہنا ہے کہ حکومت بچوں کی حفاظت کے لیے ہر دستوری راستے کا استعمال کرے گی۔ ایک حالیہ سروے میں نصف سے زائد شہری اسمتھ کے فیصلے کو نامناسب قرار دے چکے ہیں۔