اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے صوبہ البرٹا میں علیحدگی سے متعلق بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ کے پارلیمانی سیکریٹری برائے آئینی امور جیسن اسٹیفن نے شہریوں کو ایک ایسی درخواست پر دستخط کرنے کی ترغیب دی ہے جس کا مقصد کینیڈا سے علیحدگی کے سوال پر رائے شماری کروانا ہے۔
جیسن اسٹیفن، جو یونائیٹڈ کنزرویٹو پارٹی کے رکن ہیں، نے اپنے ایک تحریری بیان میں واضح کیا کہ اس درخواست پر دستخط کرنا اور علیحدگی کے حق میں ووٹ دینا دو مختلف باتیں ہیں۔ ان کے مطابق درخواست پر دستخط کرنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ عوام کو اس اہم معاملے پر ووٹ دینے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ وہ تمام شہریوں کو دعوت دیتے ہیں جو آزادی اور خوشحالی سے محبت رکھتے ہیں کہ وہ آگے بڑھیں اور اس درخواست کا حصہ بنیں۔ ان کے مطابق ریفرنڈم کا مقصد وفاقی حکومت کو جوابدہ بنانا بھی ہے، جس پر انہوں نے ایسے قوانین اور پالیسیوں کا الزام عائد کیا جو معاشی ترقی کو نقصان پہنچاتی ہیں اور شہری آزادیوں کو محدود کرتی ہیں۔
دوسری جانب وزیرِاعلیٰ ڈینیئل اسمتھ اور ان کے بعض وزراء کا کہنا ہے کہ وہ ایک متحدہ کینیڈا کے اندر خودمختار البرٹا کے حامی ہیں، تاہم وہ براہِ راست جمہوریت پر بھی یقین رکھتے ہیں۔
حکومت کی جانب سے قوانین میں کئی بار تبدیلی کی جا چکی ہے تاکہ علیحدگی سے متعلق سوال کو بیلٹ پیپر تک لانے میں حائل رکاوٹیں کم کی جا سکیں۔ تاہم ناقدین، خصوصاً نیو ڈیموکریٹک پارٹی، کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات وفاق کے حامیوں کے خلاف سیاسی توازن کو متاثر کرنے کی کوشش ہیں۔
پارٹی کی نائب رہنما راکھی پنچولی نے حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ علیحدگی مخالف درخواست پر غور کے لیے قائم کمیٹی کو فعال کرنے میں تاخیر کر رہی ہے، حالانکہ اس درخواست کی کامیابی کی تصدیق گزشتہ برس انتخابی ادارے نے کی تھی۔
موجودہ اجلاس مئی میں ختم ہونے والا ہے، جس کے باعث یہ سوال پیدا ہو گیا ہے کہ خزاں میں ہونے والی ممکنہ رائے شماری میں عوام سے کن نکات پر ووٹ لیا جائے گا۔ وزیرِاعلیٰ اسمتھ پہلے ہی اعلان کر چکی ہیں کہ وہ 19 اکتوبر کو نو مختلف سوالات عوام کے سامنے رکھیں گی، جن میں امیگریشن کی حدود اور آئینی تبدیلیاں شامل ہو سکتی ہیں، جبکہ علیحدگی کا سوال ابھی غیر یقینی ہے۔
علیحدگی کے حق میں مہم چلانے والی تنظیم اسٹے فری البرٹا اس وقت دستخط جمع کرنے کے تیسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے اور اسے مئی کے آغاز تک تقریباً ایک لاکھ اٹھہتر ہزار دستخط درکار ہیں۔
جیسن اسٹیفن نے اپنے بیان میں اس بات پر زور دیا کہ موجودہ آئینی نظام کے تحت وفاقی حکومت کا البرٹا کے ساتھ رویہ تبدیل ہونے کا امکان کم ہے۔ انہوں نے وزیرِاعلیٰ کے وفاقی حکومت کے ساتھ بعض معاملات پر پیش رفت کا حوالہ بھی دیا، تاہم ساتھ ہی یہ خدشہ ظاہر کیا کہ ایسے اقدامات کسی بھی وقت واپس لیے جا سکتے ہیں۔
ادھر راکھی پنچولی نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حکومتی جماعت کے اندر علیحدگی پسند عناصر موجود ہیں، اور انہوں نے وزیرِاعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ ایسے ارکان کو فوری طور پر پارٹی سے نکالا جائے۔
وزیرِاعلیٰ کے ترجمان سیم بلیکٹ نے وضاحت دی کہ حکومت کا بنیادی مقصد کینیڈا کے اندر رہتے ہوئے صوبے کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے، اور ان کے مطابق انفرادی ارکان کو ذاتی رائے رکھنے کی آزادی ہے، لیکن حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ وہ ملک کے اتحاد کے ساتھ کھڑی ہے۔