اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)البرٹا میں اساتذہ کی تنظیم نے صوبائی حکومت کے اس قانون کے خلاف عدالت سے رجوع کیا ہے جس کے تحت گزشتہ سال تین ہفتوں کی ہڑتال ختم کرنے کے لیے اساتذہ کو دوبارہ کام پر واپس جانے کا حکم دیا گیا تھا۔ بدھ کے روز اس معاملے کی عدالت میں سماعت ہوئی جہاں اساتذہ یونین نے عبوری حکم امتناعی کی درخواست دائر کی۔
البرٹا ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر جیسن شلنگ نے کہا کہ اگر عدالت ان کے حق میں فیصلہ دیتی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ صوبے بھر میں دوبارہ ہڑتال شروع ہو جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئندہ احتجاج یا کام چھوڑنے کے فیصلے کا اختیار تنظیم کے ارکان کو حاصل ہوگا۔
صوبائی حکومت نے گزشتہ خزاں میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت ہڑتال ختم کرتے ہوئے اساتذہ پر چار سالہ معاہدہ نافذ کیا گیا، جسے اساتذہ پہلے ہی مسترد کر چکے تھے۔ اس قانون میں حکومت نے آئینی حقوق سے متعلق بعض شقوں کو معطل کرنے کے لیے ’’نون ووسٹیئنٹ‘‘ شق کا استعمال بھی کیا تھا۔
یونین کے وکلاء نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ اس شق کا استعمال بہت زیادہ وسیع اور غیر مناسب انداز میں کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت نے اس شق کو ماضی کے اثرات کے ساتھ لاگو کرتے ہوئے تعلیمی ملازمت کا معاہدہ ستمبر ۲۰۲۴ سے نافذ کیا، حالانکہ قانون بعد میں پیش کیا گیا تھا۔
وکلاء کا کہنا تھا کہ کینیڈا کی سپریم کورٹ نے ماضی میں فیصلہ دیا تھا کہ اس شق کا استعمال عام طور پر مستقبل کے معاملات کے لیے ہونا چاہیے، لیکن اس کیس میں اسے ماضی پر لاگو کیا گیا جسے قانونی ماہرین نے متنازع قرار دیا ہے۔
یونین کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ حکومت کا اقدام بنیادی حقوق خصوصاً مساوات کے حقوق کو متاثر کرتا ہے کیونکہ صوبے میں اساتذہ کی تقریباً پچھتر فیصد تعداد خواتین پر مشتمل ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے ایسا قانونی نظام تشکیل دیا ہے جسے انہوں نے آئینی خلا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو عدالتی جانچ سے بالاتر رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب صوبائی حکومت کی پریس سیکرٹری ہیثر جینکنز نے کہا کہ حکومت اپنے فیصلے کا بھرپور دفاع کرے گی اور گزشتہ سال جاری بیان پر قائم ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ہڑتال سے طلبہ اور والدین کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔
عدالتی سماعت جمعرات تک جاری رہنے کی توقع ہے جبکہ اس معاملے پر حتمی فیصلہ ممکنہ طور پر اسی ماہ کے آخر میں متوقع ہے۔