اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)البرٹا کی آزادی سے متعلق شہری اقدام (سِٹیزن انیشی ایٹو) کی درخواست نے باقاعدہ طور پر دستخط جمع کرنا شروع کر دیے ہیں، اور ہفتے کے آخر میں اس مہم نے کیلگری میں ایک بڑا پڑاؤ ڈالا، جہاں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نئے سروے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبے میں علیحدگی کے حق میں رائے رکھنے والے افراد کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
یہ پٹیشن دسمبر میں الیکشنز البرٹا کی جانب سے منظور کی گئی تھی، جس کے بعد اب اس مہم نے صوبے بھر میں دستخط جمع کرنے کے لیے مختلف تقریبات کا آغاز کر دیا ہے۔ ہفتے کے روز کیلگری کے جنوب مشرقی علاقے کوئنز لینڈ میں ایک کمیونٹی سینٹر کے باہر دستخط کرنے والوں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں، جو عمارت سے نکل کر سڑک تک پھیلی ہوئی تھیں۔
اسٹی فری البرٹا مہم کے چیف فنانشل آفیسر گریگوری ہارٹزلر کا کہنا ہے کہ یہی صورتحال صوبے کے دیگر شہروں میں بھی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ ان کے مطابق ریڈ ڈئیر سمیت دیگر مقامات پر بھی تقریبات مکمل گنجائش سے زیادہ بھر چکی ہیں اور منتظمین کے لیے دستخطوں پر کارروائی کرنا ہی سب سے بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
تقریب کے دوران ایک پینل مباحثے میں متعدد اہم سوالات بھی اٹھائے گئے، جن میں کینیڈا پینشن پلان، البرٹا کے خشکی میں گھرے ہونے (لینڈ لاکڈ) ہونے کے اثرات اور مستقبل میں آمدنی کے ذرائع شامل تھے۔پٹیشن میں سوال کیا گیا ہےکیا آپ اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ صوبہ البرٹا کینیڈا کا حصہ نہ رہے اور ایک آزاد ریاست بن جائے؟”
یہ بھی پڑھیں :البرٹا کی علیحدگی پر ریفرنڈم کی راہ ہموار، شہریوں نے باقاعدہ دستخطی مہم شروع کردی
اس تحریک کے حامی ٹِم بریل نے کہا کہ وہ موجودہ سیاسی ماحول سے تنگ آ چکے ہیں، خاص طور پر وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے، جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ لوگوں کی آمدن اور آزادیوں کو محدود کر رہی ہیں۔ بریل کا تعلق آئل اینڈ گیس کے شعبے سے ہے اور وہ ایک دہائی قبل نووا اسکو شیا سے البرٹا منتقل ہوئے تھے۔
ایک اور حامی ٹریسی ٹیلر کے مطابق، علیحدگی کا مطلب اپنے وسائل اور عوام کی بہتر دیکھ بھال ہے، جن میں بزرگوں، صحت، تعلیم اور مقامی صنعتوں کا تحفظ شامل ہے۔
دوسری جانب، ریسرچ کمپنی کی جانب سے گزشتہ ہفتے جاری کردہ ایک آن لائن سروے کے مطابق، البرٹا کی آزادی کی حمایت کرنے والوں کی شرح 31 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جو جون 2023 کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہے۔ یہ حمایت کیلگری اور ایڈمنٹن سمیت صوبے کے مختلف حصوں میں بڑھی ہے، جبکہ دیہی علاقوں میں اس میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا۔
تاہم، سروے کے مطابق 62 فیصد البرٹنز اب بھی علیحدگی کے خلاف ہیں۔ اس مہم کو کامیاب ہونے کے لیے 2 مئی تک تقریباً ایک لاکھ 78 ہزار دستخط درکار ہیں۔اسی دوران، ایک مخالف شہری پٹیشن “البرٹا فارایور کینیڈا” پہلے ہی چار لاکھ سے زائد تصدیق شدہ دستخط جمع کر کے قانون ساز اسمبلی میں جمع کرا چکی ہے۔
مزید برآں، اسٹرجن لیک کری نیشن نے البرٹا حکومت کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ پٹیشن فرسٹ نیشنز اور وفاقی حکومت کے درمیان ہونے والے معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔صوبائی حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ متحدہ کینیڈا کے اندر ایک خودمختار البرٹا کی حامی ہے اور ہر شہری کو جمہوری عمل میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے