اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)انسدادِ دہشت گردی کی عدالت راولپنڈی میں چیئرمین پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف 26 نومبر کے صادق آباد احتجاج کیس کی ہنگامہ خیز سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے انہیں مختصر عدالتی تحویل کے بعد ضمانت پر آزاد کر دیا۔ سماعت کے دوران پولیس کی جانب سے انہیں تحویل میں لینے کی کوشش پر وکلا نے سخت احتجاج کیا، جس پر عدالت نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ایسا "غلط فہمی” کے باعث ہوا اور عدالت نے گرفتاری کا کوئی حکم جاری نہیں کیا تھا۔
سرکاری پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمہ اور دفاعی وکلا کا طرزِ عمل ٹرائل میں تاخیر کا سبب بن رہا ہے، جبکہ عدالت میں موجود آٹھ گواہوں کی ڈیوٹی بھی اس وجہ سے متاثر ہوئی۔ دوسری جانب وکیل صفائی نے عدالتی کارروائی مؤخر کرنے کی درخواست کی، جسے یکم دسمبر تک منظور کر لیا گیا۔ دفاعی وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ علیمہ خان کو پولیس کی جانب سے روکنے کی کوشش غیر قانونی تھی اور متعلقہ اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔
سماعت کے دوران شوکت خانم اسپتال اور نمل یونیورسٹی کے فریز شدہ بینک اکاؤنٹس کے حوالے سے بھی درخواست دی گئی۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ اکاؤنٹس ملزمہ کے رویے کی وجہ سے فریز کیے گئے اور اگر وہ باقاعدگی سے ٹرائل میں پیش हों تو ان اکاؤنٹس کو بحال کیا جا سکتا ہے۔
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں وکیل فیصل ملک نے کہا کہ علیمہ خان کو گرفتاری کا کوئی قانونی جواز نہیں تھا، جبکہ خود عدالت نے بھی اس بات کی تردید کی ہے کہ کوئی تحویل کا حکم جاری ہوا ہو۔ علیمہ خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت میں موجود تھیں، لیکن پولیس نے باہر سے دروازہ بند کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ شوکت خانم کی آنریری بورڈ ممبر ہیں اور اسپتال کے اکاؤنٹس فریز ہونے سے عوامی فلاح کے منصوبوں پر براہ راست اثر پڑ رہا ہے۔
علیمہ خان کا کہنا تھا کہ ملک میں فلاحی اداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ شوکت خانم جیسے عالمی سطح پر تسلیم شدہ ادارے کو کیوں ہدف بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال 26 نومبر کو پرامن قافلے کے ساتھ اسلام آباد آئے تھے، جہاں خواتین اور بچوں تک پر گولیاں چلائی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کے پیغام کو عوام تک پہنچانے کی وجہ سے مقدمات کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک میں آئینی تبدیلیاں خوف کی بنیاد پر ہو رہی ہیں اور ریاستی رویہ آمرانہ حد تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے بقول لاکھوں پاکستانی ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں، اور صورتحال اس نہج پر پہنچ گئی ہے کہ حکومت خود کہتی ہے کہ "پوچھ کر جواب دیں گے”۔