اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) چین نے ایک بار پھر جبری مشقت (Forced Labour) کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے
انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے، جبکہ کینیڈا میں اس معاملے پر سیاسی تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب لبرل پارٹی کے رکن پارلیمنٹ مائیکل ما کے حالیہ بیانات پر شدید ردعمل سامنے آیا۔چینی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ چین میں الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات کی تیاری میں جبری مشقت کے استعمال کا الزام “کھلا جھوٹ” ہے، اور بعض عناصر ان الزامات کو کینیڈا اور چین کے درمیان الیکٹرک وہیکل (EV) معاہدے کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
یہ تنازع اس وقت بڑھا جب پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کے دوران مائیکل ما نے ایک ماہر سے سوال کیا کہ کیا انہوں نے چین میں جبری مشقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ماہر نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ چینی الیکٹرک گاڑیاں ان مصنوعات سے تیار کی جاتی ہیں جو ایغور (Uyghur) اقلیت کے افراد سے جبری مشقت کے ذریعے بنوائی جاتی ہیں۔
بعد ازاں مائیکل ما نے اپنے بیان پر معذرت کرتے ہوئے وضاحت دی کہ ان کا سوال خاص طور پر شین ژین میں جبری مشقت سے متعلق تھا، نہ کہ سنکیانگ کے حوالے سے، جہاں چینی حکومت پر ایغور مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
دوسری جانب، اپوزیشن جماعت کنزرویٹو پارٹی نے اس معاملے پر وزیر اعظم مارک کارنی سے واضح مؤقف اپنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کنزرویٹو رہنما پیئر پولی ایور نے سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کو واضح طور پر “ہاں یا نہیں” میں جواب دینا چاہیے کہ آیا وہ چین میں جبری مشقت کے وجود پر یقین رکھتے ہیں یا نہیں۔
اسی طرح کنزرویٹو پارٹی کے خارجہ امور کے ناقد مائیکل چونگ نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فوری طور پر اپنی پالیسی واضح کرے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کینیڈا چین کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف انسانی حقوق بلکہ بین الاقوامی تجارت اور سفارتی تعلقات کے لیے بھی اہم بن چکا ہے۔ اگر کینیڈین حکومت واضح مؤقف اختیار نہیں کرتی تو اس سے اندرونی سیاسی دباؤ میں اضافہ اور چین کے ساتھ تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔