اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) آبنائے ہرمز کی صورتِ حال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے
جہاں ایران کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ کو مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تجارتی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار خلیج فارس سے دیگر ممالک کو منتقل کی جاتی ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق حالیہ سیکیورٹی خدشات، خصوصاً آبدوزوں (سرنگوں) کی ممکنہ موجودگی کے پیشِ نظر یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سمندری حدود میں کسی بھی غیر متوقع خطرے سے نمٹا جا سکے۔
ایرانی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن نے واضح کیا ہے کہ اس دوران جو بھی جہاز اس راستے سے گزرنا چاہیں گے، انہیں ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے ساتھ مکمل تعاون کرنا ہوگا اور طے شدہ حفاظتی پروٹوکولز پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے متبادل بحری راستے بھی متعین کیے جا رہے ہیں، تاکہ بین الاقوامی تجارت مکمل طور پر متاثر نہ ہو۔ تاہم ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی کسی بھی سطح پر بندش یا سخت کنٹرول عالمی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتا ہے، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور شپنگ سرگرمیوں میں رکاوٹ جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کی عکاسی کرتی ہے، اور اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی منڈیوں، توانائی کے شعبے اور بین الاقوامی سفارتی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس تناظر میں عالمی برادری کی نظریں اب ایران کے اگلے اقدامات اور دیگر بڑی طاقتوں کے ردعمل پر مرکوز ہیں۔