اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) سائنس کی دنیا میں حیرت اور تجسس کی کوئی حد نہیں۔ ہر نئی دریافت انسان کے علم میں اضافے کے ساتھ ساتھ کائنات کی پیچیدگیوں کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔
حال ہی میں خلا میں ایک منفرد سیارچہ دریافت کیا گیا ہے، جس کا نام 2025 MN45 رکھا گیا ہے۔ یہ سیارچہ نہ صرف اپنے حجم اور سائز کی وجہ سے دلچسپی کا مرکز بنا ہے بلکہ اس کی گھومنے کی رفتار نے سائنسی حلقوں کو حیران کر دیا ہے۔2025 MN45 تقریباً آٹھ فٹبال فیلڈز کے برابر ہے، یعنی اس کا قطر تقریباً 709 میٹر ہے۔ سائنسدانوں نے اس بات کا اندازہ لگایا ہے کہ یہ سیارچہ اپنے محور کے گرد صرف **1.88 منٹ** میں ایک مکمل چکر لگا لیتا ہے۔ یہ رفتار اس کے سائز کے لحاظ سے حیران کن ہے، کیونکہ اب تک دریافت ہونے والے 499 میٹر سے بڑے سیارچوں میں یہ سب سے زیادہ تیزی سے گھومنے والا سیارچہ ہے۔ اس رفتار کی بنا پر سائنسدان اس کی ساخت، مرکب اور ممکنہ پیدائش کے بارے میں نئے سوالات کر رہے ہیں۔
2025 MN45، سورج کے گرد گردش کرنے والے سیارچوں کی مرکزی بیلٹ میں واقع ہے۔ مرکزی بیلٹ زمین سے تقریباً 48 کروڑ 28 لاکھ کلو میٹر کے فاصلے پر موجود ہے۔ یہ وہ علاقہ ہے جہاں چھوٹے اور بڑے سیارچے سورج کے گرد اپنے اپنے مدار میں مسلسل حرکت کرتے ہیں۔ اس بیلٹ میں مختلف سائز کے لاکھوں سیارچے پائے جاتے ہیں، جن کا سب سے بڑا 529 کلومیٹر تک چوڑا ہے۔ 2025 MN45 کا تیز رفتار گھومنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہر سیارچہ اپنی فطرت، مرکب اور تاریخ کے لحاظ سے منفرد ہے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس سیارچے کی تیز رفتاری متعدد عوامل سے جڑی ہوئی ہے۔ ان میں سب سے اہم عوامل درج ذیل ہیں ،یہ سیارچہ کس مواد سے بنا ہے؟ کیا یہ زیادہ دھات یا معدنیات پر مشتمل ہے؟ اس کے گھومنے کی رفتار اس کے مرکب کی بناوٹ کے ساتھ جڑی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔مرکزی بیلٹ میں موجود سیارچوں پر سورج کی توانائی اور کشش ثقل اثر انداز ہوتی ہے، جس سے ان کی رفتار اور مدار میں معمولی تغیرات آ سکتے ہیں۔سیارچوں کی مرکزی بیلٹ میں مسلسل ٹکر اور قریبی سیارچوں کے ساتھ کشش ثقل کے تعاملات بھی ان کی رفتار اور گردش پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
2025 MN45 کی دریافت سائنسی تحقیق کے کئی دروازے کھولتی ہے۔ سب سے پہلے یہ انسانی علم میں اضافہ کرتی ہے کہ کیسے بڑے سیارچے تیز رفتاری سے گھوم سکتے ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کی ساخت میں کیا تبدیلیاں واقع ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ دریافت سیارچوں کی حفاظت، ممکنہ زمین سے ٹکراؤ کے خطرات، اور مستقبل میں خلائی تحقیق کے لیے اہم ہے۔
سیارچے کی تیز رفتاری یہ ظاہر کرتی ہے کہ اس کے اندر موجود مواد کتنا ہلکا یا مضبوط ہے۔ اس رفتار کی بنیاد پر ماہرین اندازہ لگا رہے ہیں کہ یہ سیارچہ اپنے محور کے گرد کب سے گردش کر رہا ہے اور کس مرحلے میں پیدا ہوا۔ ممکنہ طور پر یہ قدیم سیارچوں میں سے ہے جو نظام شمسی کے ابتدائی دنوں سے موجود ہیں۔
ہر نئی دریافت انسان کے علم اور فہم کو وسعت دیتی ہے۔ 2025 MN45 نہ صرف خلا کے بارے میں ہمیں نئے حقائق بتا رہا ہے بلکہ یہ بھی ظاہر کر رہا ہے کہ کائنات میں ہر جرمِ فلکی منفرد اور حیرت انگیز ہے۔ اس کی تیز رفتاری، سائز اور مدار ہمارے لیے یہ سبق دیتی ہے کہ خلا میں کوئی بھی چیز معمولی نہیں، اور ہر جرم کے پیچھے پیچیدہ طبیعی اور کیمیائی عوامل کام کر رہے ہیں۔
یہ دریافت مستقبل میں خلائی تحقیق اور ممکنہ انسانیت کے لیے خلاء میں محفوظ رہائش کے امکانات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر سائنسدان اس سیارچے کے مواد اور رفتار کا مکمل تجزیہ کریں، تو شاید مستقبل میں یہ جاننا ممکن ہو کہ ایسے تیز رفتار سیارچے زمین کے قریب کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں یا انہیں خلائی ٹیکنالوجی کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے۔
2025 MN45 کی دریافت اس بات کا بھی مظہر ہے کہ انسانی تجسس اور جدید ٹیکنالوجی نے ہمیں خلا کی جانب اور قریب کر دیا ہے۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہے جس میں ہم نہ صرف نظام شمسی کے رازوں کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ اپنی سائنس اور ٹیکنالوجی کو بھی آزمائش میں ڈال رہے ہیں۔ یہ سیارچہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ خلا میں ہر جرمِ فلکی منفرد ہے اور ہر نئی دریافت ہمیں کائنات کی پیچیدگیوں اور خوبصورتی کے بارے میں نئی بصیرت دیتی ہے۔