اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے سخت امیگریشن پالیسی کے تحت مختلف جرائم میں ملوث تارکین وطن کے 80 ہزار ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔
ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق ان منسوخیوں کی سب سے بڑی وجوہات تشدد، چوری اور نشے میں ڈرائیونگ کے مقدمات ہیں، جن میں سے صرف نشے میں گاڑی چلانے کے الزامات پر 16 ہزار ویزے جبکہ تشدد سے متعلق جرائم پر 12 ہزار ویزے منسوخ کیے گئے۔ حکام نے بتایا کہ ویزوں کی منسوخی صرف مجرمانہ سرگرمیوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ویزا میعاد ختم ہونے، امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی اور غلط معلومات فراہم کرنے پر بھی کارروائی کی گئی، جس کے تحت اگست میں 6 ہزار اسٹوڈنٹ ویزے منسوخ کیے گئے۔ خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں سوشل میڈیا پر اشتعال انگیز یا نفرت پھیلانے والی پوسٹس کرنے والے افراد کے ویزے بھی منسوخ کیے گئے، جن میں چارلی کرک پر حملے کے بعد شدت پسندانہ پوسٹس کرنے والے چھ افراد شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے ویزے منسوخ کیے گئے ہیں، انہیں ملک بدری (ڈی پورٹیشن) کا بھی سامنا ہوسکتا ہے، تاہم ہر کیس کو انفرادی طور پر قانونی عمل سے گزارا جائے گا۔ ٹرمپ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ امیگریشن قوانین کو مزید سخت کیا جائے گا اور سکیورٹی کے نام پر ویزا اسکریننگ کو مزید سخت بنایا جائے گا، جو 2024 میں ٹرمپ کی دوبارہ صدارت سنبھالنے کے بعد اپنائی گئی سخت پالیسیوں کا تسلسل ہے۔