اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکہ نے ایران کے ساتھ ممکنہ جنگ بندی اور تنازع کے خاتمے کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے 15 نکاتی منصوبہ پیش کر دیا ہے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے اور ممکنہ امن معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام پر سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔ امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی (Enrichment) نہ کرے، جو کہ تہران کے جوہری پروگرام کا بنیادی جزو سمجھا جاتا ہے۔
مزید برآں، امریکی منصوبے میں ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے اہم جوہری مراکز، بشمول نیطنز جوہری تنصیب، اصفہان جوہری مرکز اور فردو جوہری تنصیب کو مکمل طور پر ختم کرے۔ یہ تنصیبات ایران کے جوہری ڈھانچے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہیں اور ماضی میں بھی عالمی سطح پر تنازع کا مرکز رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق اس 15 نکاتی منصوبے میں نہ صرف جوہری سرگرمیوں پر پابندیاں شامل ہیں بلکہ ممکنہ طور پر علاقائی سکیورٹی، میزائل پروگرام اور بین الاقوامی نگرانی جیسے معاملات بھی زیر غور آئے ہیں تاہم مکمل تفصیلات ابھی سامنے نہیں آ سکیں۔دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے اس منصوبے پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں ایران ایسے مطالبات کو اپنی خودمختاری کے خلاف قرار دے کر مسترد کرتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے لیے اپنے جوہری پروگرام سے مکمل دستبرداری ایک انتہائی حساس اور مشکل فیصلہ ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اگر اس منصوبے پر پیش رفت ہوتی ہے تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان ایک بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ادھر عالمی برادری اس پیش رفت کو بغور دیکھ رہی ہے کیونکہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی بھی ممکنہ معاہدے کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی مرتب ہوں گے۔