اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے اعلان کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں میں بچوں سمیت کم از کم 201 ایرانی شہری جاں بحق اور 747 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
ایران سرکاری ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے دوران آیت اللہ سید علی خامنہ ای شہید ہو گئے ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد پورے ملک میں چالیس روزہ سوگ کا اعلان کر دیا گیا ہے ۔
ادھر اسرائیلی حکام کی طرف سے یہ دعوی کیا جارہا ہے کہ اسرائیلی سپریم لیڈر خامنہ ای اب اس دنیا میں نہیں رہے ان کی میت ملنے کا اسرائیلی دعوی کیاجارہا ہے،نیتن یاہو نے بھی کہا تھا کہ خامنہ اب ہم میں نہیں رہے تاہم ایرانی حکام کی طرف سے اس کی تصدیق ابھی تک نہیں کی گئی،
اطلاعات کے مطابق مشرق وسطیٰ میں صورتحال نہایت سنگین ہو چکی ہے اور متعدد ممالک اس کشیدگی کی لپیٹ میں آ گئے ہیں۔ امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایران کے 24 صوبوں کو نشانہ بنایا۔ حملوں کے نتیجے میں عام شہریوں کو بھاری نقصان پہنچا، جن میں معصوم طالبات بھی شامل ہیں۔
ایران کا جوابی اقدام، آپریشن فتح خیبر کا آغاز
ایران نے امریکی و اسرائیلی کارروائی کے ردعمل میں “آپریشن فتح خیبر” شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ایرانی حملوں کے بعد تل ابیب اور حیفہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق یروشلم میں کئی عمارتیں نشانہ بنیں جبکہ ابتدائی مرحلے میں اسرائیل کی جانب 75 میزائل داغے گئے۔
اسرائیلی حکومت نے شہریوں کو زیر زمین پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی، ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی، تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے اور فضائی حدود معطل کر دی گئی۔ ایرانی میزائلوں کو روکنے کے لیے دفاعی نظام فعال کر دیا گیا۔
خلیجی ممالک میں بھی دھماکے
عرب میڈیا کے مطابق ریاض میں دھماکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ ابوظہبی اور بحرین میں بھی دھماکے سنے گئے جبکہ قطر کی فضائی حدود میں ایرانی میزائل مار گرائے گئے۔ بحرین میں امریکی فوجی اڈے اور امریکی بحری بیڑے کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں پانچ اہم امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں قطر کا العدید ایئر بیس، کویت کا السالمیہ بیس، متحدہ عرب امارات کا الظفرہ ایئر بیس، بحرین میں امریکی اڈہ اور اردن کا کنگ حسین ایئر بیس شامل ہیں۔
ایرانی حملوں کے بعد کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات میں سائرن بجتے رہے۔ امارات میں ایک ایشیائی شہری جاں بحق ہوا جس کی شناخت پاکستانی شہری کے طور پر کی گئی ہے۔
اماراتی دفاعی اقدامات اور نقصانات
اماراتی وزارت دفاع نے رہائشیوں کو موبائل پیغامات کے ذریعے فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔ حکام کے مطابق 132 ایرانی میزائل اور 195 ڈرون تباہ کیے گئے۔ ڈرون کو مار گرانے کے دوران برج العرب کے بیرونی حصے میں معمولی آگ بھڑک اٹھی جس پر قابو پا لیا گیا۔ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر میزائل حملے میں چار افراد زخمی ہوئے۔
قطر اور بحرین کی صورتحال
دوحہ میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جہاں تقریباً 15 سے 20 مختلف مقامات پر دھماکے رپورٹ ہوئے۔ قطری وزارت داخلہ کے مطابق ایرانی حملوں میں آٹھ افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔ بحرین کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کے پانچ میزائل فضا میں تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کی اطلاعات
اطلاعات کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے صاحبزادے اور بہو بھی حملوں میں جاں بحق ہو گئے۔ ایرانی وزیر دفاع امیر ناصر زادہ، پاسداران انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور، جنرل حسین سلامی، محمد باقری اور بسیج فورس کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق سپریم لیڈر محفوظ ہیں جبکہ صدر مسعود پزشکیان کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور آرمی چیف امیر حاتمی بھی محفوظ ہیں۔
تعلیمی اداروں اور سرکاری تنصیبات پر حملے
شہر مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پر بمباری کے نتیجے میں جاں بحق طالبات کی تعداد 86 تک پہنچ گئی ہے۔ تہران میں حکومتی عمارات اور صدارتی محل کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ سات میزائل صدارتی کمپاؤنڈ اور سپریم لیڈر کے رہائشی علاقے کے قریب گرے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق اسرائیل نے ایران کے 30 مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جن میں جنوبی تہران کی وزارتوں کے دفاتر اور مہرآباد ایئرپورٹ شامل ہیں۔ ایرانی دفاعی نظام نے تبریز، خمین اور آہواز میں تین اسرائیلی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔
امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون نے ایرانی فوجی اہداف پر حملوں کی ویڈیو جاری کی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے بعد ایران میں ٹیلیفون اور انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی ہے اور فضائی حدود بند کر دی گئی ہیں۔