اردوورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایک امریکی اخبار کی حالیہ اشاعت میں بتایا گیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے دوران
پاکستان نے امن کے قیام کے لیے سرگرم اور مؤثر سفارتی کردار ادا کیا، جس میں خصوصاً ٹیلیفون کے ذریعے روابط کو خاص اہمیت حاصل رہی۔رپورٹ کے مطابق پاکستانی قیادت نے خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مختلف ممالک کے اہم رہنماؤں سے مسلسل رابطے برقرار رکھے۔ ان روابط میں تہران، ریاض، ابوظبی، قاہرہ، استنبول اور برسلز کے رہنما شامل تھے، جن سے ممکنہ جنگ بندی اور مذاکرات کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اخبار کے مطابق پاکستان کی قیادت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جس کے باعث پاکستان کو ایک مؤثر ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر مسلسل سفارتی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور مختلف ممالک سے رابطوں کے ذریعے خطے میں امن کی بحالی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔دوسری جانب جرمنی کے وزیر خارجہ جوہان ویڈے فول نے بھی اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ روابط قائم ہو چکے ہیں، جبکہ براہ راست مذاکرات کی تیاری جاری ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندوں کی ایک اہم ملاقات جلد متوقع ہے، جس کے پاکستان میں انعقاد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ماہرین کے مطابق پاکستان کی فعال سفارتکاری نہ صرف خطے میں اس کے بڑھتے ہوئے کردار کو نمایاں کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر اس پر اعتماد میں اضافے کی بھی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ کوششیں نتیجہ خیز ثابت ہوئیں تو یہ تنازع کے خاتمے اور دیرپا امن کے قیام کی جانب ایک اہم قدم ہوگا۔