امریکہ کا 66 بین الاقوامی اداروں،تنظیموں سے علیحدگی ،فنڈرز روکنے کا اعلان

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک غیر معمولی اور دور رس فیصلے کے تحت اعلان کیا ہے

کہ امریکہ 66 بین الاقوامی اداروں اور تنظیموں سے دستبردار ہو جائے گا اور ان کے لیے مالی معاونت بھی مکمل طور پر بند کر دی جائے گی۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق ان میں 35 غیر اقوامِ متحدہ تنظیمیں اور اقوامِ متحدہ کے 31 ادارے شامل ہیں۔ صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ عالمی ادارے امریکی قومی مفادات کے خلاف کام کر رہے ہیں، اس لیے امریکہ ان میں شمولیت اور فنڈنگ جاری نہیں رکھ سکتا۔
اس فیصلے کے تحت امریکہ اقوامِ متحدہ کے فریم ورک کنونشن آن کلائمیٹ چینج سے بھی علیحدگی اختیار کرے گا، جو عالمی سطح پر ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کا بنیادی معاہدہ اور 2015 کے پیرس موسمیاتی معاہدے کی بنیاد ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال امریکہ نے تین دہائیوں میں پہلی بار اقوامِ متحدہ کی سالانہ عالمی موسمیاتی کانفرنس میں بھی شرکت نہیں کی تھی۔ ماہرین کے مطابق اس اقدام سے عالمی ماحولیاتی کوششوں کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے۔
ماحولیاتی تنظیم نیچرل ریسورسز ڈیفنس کونسل کے صدر منیش باپنا نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اس معاہدے سے نکلتا ہے تو وہ ایسا کرنے والا دنیا کا پہلا ملک ہوگا۔ ان کے مطابق تمام ممالک اس معاہدے کا حصہ ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی اخلاقی ذمہ داری پوری ہوتی ہے بلکہ عالمی معاشی اور پالیسی فیصلوں پر اثرانداز ہونے کا موقع بھی ملتا ہے۔
اس فیصلے میں اقوامِ متحدہ کے خواتین سے متعلق ادارے یون وومن سے انخلا بھی شامل ہے، جو دنیا بھر میں صنفی مساوات اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکہ اقوامِ متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) سے بھی علیحدگی اختیار کرے گا، جو 150 سے زائد ممالک میں خاندانی منصوبہ بندی، زچگی اور بچوں کی صحت سے متعلق پروگرام چلا رہا ہے۔ امریکہ پہلے ہی گزشتہ برس یو این ایف پی اے کی فنڈنگ میں نمایاں کمی کر چکا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اقوامِ متحدہ کے اداروں سے علیحدگی کا مطلب ان اداروں میں امریکی شرکت اور مالی معاونت کا مکمل خاتمہ ہوگا۔ صدر ٹرمپ اس سے قبل بھی اقوامِ متحدہ کے بیشتر اداروں کے لیے رضاکارانہ امریکی فنڈنگ میں نمایاں کمی کر چکے ہیں۔ اس فیصلے پر اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے دفتر کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ اقدام صدر ٹرمپ کی کثیرالجہتی عالمی نظام کے بارے میں دیرینہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ بارہا اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کو غیر مؤثر، مہنگا اور جوابدہی سے عاری قرار دیتے رہے ہیں۔ اپنی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز سے ہی صدر ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کی فنڈنگ میں کمی، انسانی حقوق کونسل سے علیحدگی، فلسطینی پناہ گزینوں کے ادارے یو این آر ڈبلیو اے کی فنڈنگ بند کرنے، یونیسکو سے نکلنے اور عالمی ادارۂ صحت اور پیرس موسمیاتی معاہدے سے علیحدگی کے اعلانات کیے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ جن دیگر اداروں سے امریکہ جلد علیحدگی چاہتا ہے ان میں اقوامِ متحدہ کانفرنس برائے تجارت و ترقی، انٹرنیشنل انرجی فورم، اقوامِ متحدہ کا روایتی ہتھیاروں کا رجسٹر اور اقوامِ متحدہ پیس بلڈنگ کمیشن شامل ہیں۔ امریکی انتظامیہ کے مطابق یہ ادارے ایسے نظریات کو فروغ دیتے ہیں جو امریکی خودمختاری اور معاشی مفادات سے متصادم ہیں، اس لیے امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسے کو زیادہ مؤثر اور قومی ترجیحات کے مطابق استعمال کیا جانا چاہیے۔
وائٹ ہاؤس کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدام تمام بین الاقوامی تنظیموں، معاہدوں اور کنونشنز کے جامع جائزے کا حصہ ہے، تاکہ یہ فیصلہ کیا جا سکے کہ کہاں امریکی شمولیت اور مالی معاونت واقعی قومی مفادات اور ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں