اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں متحدہ عرب امارات کو جدید ہتھیار فروخت کرنے کا بڑا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ دفاعی معاہدہ تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کا ہے، جسے خطے میں توازنِ قوت برقرار رکھنے کی ایک اہم کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اس معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات کو تقریباً 5.6 ارب ڈالر مالیت کے Patriot Missile System فراہم کیے جائیں گے، جبکہ 1.3 ارب ڈالر کے جدید جنگی ہیلی کاپٹرز بھی اس پیکج کا حصہ ہوں گے۔ یہ ہتھیار یو اے ای کی فضائی دفاعی صلاحیت کو نمایاں طور پر مضبوط بنانے میں مدد دیں گے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ خلیجی ممالک، خصوصاً متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب، اپنی دفاعی تیاریوں کو تیز کر رہے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات سے نمٹا جا سکے۔ ماہرین کے مطابق اس معاہدے سے خطے میں اسلحہ کی دوڑ میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امریکا اس سے قبل بھی خلیج کے تین ممالک کو مجموعی طور پر 16.5 ارب ڈالر مالیت کے ہتھیار فروخت کرنے کا اعلان کر چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ واشنگٹن خطے میں اپنے اتحادیوں کی عسکری صلاحیت بڑھانے پر بھرپور توجہ دے رہا ہے۔
دوسری جانب محمد بن زاید النہیان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا، جس میں ایران کے حالیہ حملوں اور خطے کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے امارات میں شہری علاقوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی سخت مذمت کی اور سیکیورٹی تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یہ دفاعی معاہدہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔