اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے پاکستان سمیت 75 ممالک کے لیے امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ
معطل کرنے کے فیصلے کو امریکی عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے خلاف شہری حقوق کی تنظیموں نے امریکی محکمہ خارجہ کے خلاف نیویارک کی ایک وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔خبر ایجنسی کے مطابق درخواست گزار تنظیموں کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ویزا پالیسی امریکی امیگریشن قوانین کی دہائیوں پر محیط بنیادوں کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔ مقدمے میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اس پالیسی کو روکنے کے لیے حکمِ امتناع (انجکشن) جاری کرے تاکہ متاثرہ ممالک کے شہریوں کو درپیش مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔
عدالتی درخواست میں کہا گیا ہے کہ امیگرنٹ ویزوں کی معطلی کا فیصلہ امتیازی نوعیت کا ہے اور اس سے ہزاروں خاندان متاثر ہو رہے ہیں جو طویل عرصے سے قانونی طریقے سے امریکا ہجرت کے منتظر ہیں۔ درخواست گزاروں کے مطابق یہ اقدام نہ صرف امیگریشن نظام میں رکاوٹ ڈال رہا ہے بلکہ انسانی حقوق کے عالمی اصولوں سے بھی متصادم ہے۔واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امیگرنٹ ویزوں کی پروسیسنگ روکنے کا فیصلہ 21 جنوری سے نافذ العمل ہے۔ اس فیصلے کے تحت پاکستان کے علاوہ افغانستان، البانیہ، الجزائر، آرمینیا، آذربائیجان، بنگلہ دیش، بیلاروس، بھوٹان، بوسنیا سمیت درجنوں ممالک کے شہری متاثر ہو رہے ہیں۔
امیگریشن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے باعث امریکا میں مقیم ان ممالک کے شہریوں کے اہلِ خانہ کے کیسز تعطل کا شکار ہو گئے ہیں، جس سے خاندانی ملاپ کے عمل میں غیر معمولی تاخیر پیدا ہو رہی ہے۔دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے اس مقدمے پر تاحال کوئی تفصیلی ردِعمل سامنے نہیں آیا، تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ویزا پالیسی قومی سلامتی اور انتظامی وجوہات کے تحت مرتب کی گئی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس مقدمے کا فیصلہ امریکی امیگریشن پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، خصوصاً ان ممالک کے لیے جہاں سے بڑی تعداد میں لوگ امریکا ہجرت کے خواہاں ہیں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔