امریکا کا ’نیو غزہ‘ منصوبہ، ترقی کا خواب یا فلسطینی وجود مٹانے کی نئی حکمتِ عملی؟

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکا نے بورڈ آف پیس کے بعد ایک نیا اور متنازع منصوبہ ’’نیو غزہ‘‘ پیش کر دیا ہے

جسے عالمی سطح پر ملا جلا ردِعمل ملا ہے۔ اس منصوبے کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور قریبی مشیر جیرڈ کشنر نے ورلڈ اکنامک فورم (WEF) کے موقع پر پیش کیا، جس میں غزہ کی مکمل ازسرِنو تعمیر اور اسے ایک جدید، سرمایہ کاری دوست خطے میں تبدیل کرنے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق ’’نیو غزہ‘‘ منصوبے کے تحت غزہ کے وسیع علاقوں کو فلوریسٹک سٹی اسکائی اسکریپرز، لگژری رہائشی منصوبوں، ڈیٹا سینٹرز، سیاحتی زونز، جدید پارکس، زرعی اور صنعتی علاقوں میں تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جیرڈ کشنر کا کہنا تھا کہ یہ منصوبہ غزہ کو معاشی ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
کشنر کے مطابق اس منصوبے کے تحت غزہ میں ایک لاکھ مستقل رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے، جبکہ جنگ اور بمباری سے متاثرہ 75 طبی مراکز کو بحال اور فعال کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ 200 سے زائد تعلیمی، ثقافتی اور پیشہ ورانہ تربیتی عمارتوں کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔
منصوبے میں جدید راہداری نظام، سمندری بندرگاہ، ہوائی اڈہ، صنعتی زونز اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی تعمیر کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ جیرڈ کشنر نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 25 ارب ڈالر لاگت کے اس بڑے ترقیاتی منصوبے سے غزہ میں امن، روزگار اور معاشی استحکام آئے گا۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی ’’نیو غزہ‘‘ منصوبے کے حق میں بیان دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ سمندر کے کنارے واقع ایک خوبصورت مقام ہے اور اگر اسے درست طریقے سے استعمال کیا جائے تو یہاں بہتر زندگی اور ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔
تاہم اس منصوبے پر شدید تنقید بھی سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ’’نیو غزہ‘‘ منصوبہ درحقیقت غزہ کو انسانی بحران کے بجائے محض ایک سرمایہ کاری کے منصوبے کے طور پر دیکھنے کی کوشش ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے میں فلسطینی عوام کے حقوق، ان کی رائے اور ان کے مستقبل کو نظر انداز کیا گیا ہے۔کاروباری اور سیاسی مبصر ڈیویڈ الحدّاد نے اس منصوبے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ نسل کشی کا دو مرحلوں پر مشتمل منصوبہ ہے، جس میں پہلے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مارا جاتا ہے اور پھر بچ جانے والوں کو ترقی اور سرمایہ کاری کے نام پر ان کی زمین سے بے دخل کر دیا جاتا ہے۔
بین الاقوامی وکیل ایتائی اپسشتائن کا کہنا ہے کہ ’’نیو غزہ‘‘ منصوبہ نہ کسی بین الاقوامی قانون کے دائرے میں آتا ہے اور نہ ہی زمینی حقائق پر مبنی ہے۔ ان کے مطابق یہ محض جیرڈ کشنر کے تیار کردہ شاندار رئیل اسٹیٹ خاکوں کا مجموعہ ہے، جس میں حقیقی انسانی امداد، بحالی اور پائیدار امن کو مکمل طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔
الجزیرہ کے سینئر تجزیہ کار ہانی محمود نے کہا کہ غزہ کو ان لوگوں کی آنکھ سے نہیں دیکھا جا رہا جو روزانہ بمباری، قحط، قتل اور مصائب کا سامنا کر رہے ہیں، بلکہ اسے ایک ایسی جگہ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جسے سرمایہ کاری اور منافع کے لیے استعمال کیا جا سکے۔انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ چاہے ٹرمپ کا بورڈ آف پیس ہو یا جیرڈ کشنر کا ’’نیو غزہ‘‘ منصوبہ، دونوں میں فلسطینی عوام کو فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رکھا گیا ہے۔ ان کے جذبات، احساسات اور بنیادی حقوق کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو کسی بھی پائیدار امن کے تصور کو مشکوک بنا دیتا ہے۔
مزید برآں ناقدین نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس منصوبے میں فلسطینی نمائندگان کی عدم موجودگی ایک غلط اور یکطرفہ بین الاقوامی شمولیت کا مظہر ہے۔ بعض حلقوں کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی مبینہ شمولیت یا حمایت اس منصوبے کو مزید متنازع بنا دیتی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق ’’نیو غزہ‘‘ منصوبہ بظاہر ترقی، تعمیر اور خوشحالی کی زبان بولتا ہے، مگر اس کے پس پردہ مقاصد اور عملی نتائج فلسطینی عوام کے لیے مزید مشکلات اور بے دخلی کا باعث بن سکتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ منصوبہ واقعی امن اور بحالی کی طرف قدم ہے یا پھر غزہ کے مسئلے کو ایک نئے انداز میں نظر انداز کرنے کی کوشش۔

 

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں