خالصتان رہنما کو قتل کرنے کی سازش،بھارتی شہری نے جرم قبول کرلیا

اردوورلڈ کینیڈا (ویب نیوز ) امریکا میں مقیم خالصتان تحریک کے سرگرم رہنما گرپتونت سنگھ کو قتل کرنے کی ناکام سازش

کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں بھارتی شہری نکھل گپتا نے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں اپنے خلاف عائد الزامات قبول کرلیے۔امریکی استغاثہ کے مطابق نکھل گپتا پر الزام تھا کہ انہوں نے نیویارک میں مقیم سکھ علیحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کے لیے کرائے کے قاتل کی خدمات حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کی۔ عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات کے مطابق ملزم پر قتل کی سازش، کرائے کے قاتل سے رابطہ اور منی لانڈرنگ سمیت متعدد سنگین الزامات عائد تھے، جن کا انہوں نے اعتراف جرم کرلیا ہے۔
پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے پیچھے بھارتی حکومت کے ایک اہم اہلکار کی ہدایات شامل تھیں۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی (را) سے مبینہ طور پر وابستہ افسر نے نکھل گپتا کو یہ ٹاسک سونپا تھا۔ الزام ہے کہ یادو نے گپتا کو بھارت میں درپیش قانونی مقدمات سے نجات دلانے کی یقین دہانی کرائی اور بدلے میں امریکا میں قتل کی منصوبہ بندی کا کہا۔
امریکی حکام کے مطابق نکھل گپتا نے ایک ایسے شخص سے رابطہ کیا جسے وہ کرائے کا قاتل سمجھ رہا تھا، تاہم وہ دراصل امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مخبر تھا۔ اسی دوران خفیہ اداروں نے سازش کا سراغ لگا کر بروقت کارروائی کی اور یوں قتل کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔یاد رہے کہ نکھل گپتا کو جون 2023 میں چیک جمہوریہ سے گرفتار کیا گیا تھا اور بعد ازاں 2024 میں امریکا کے حوالے کیا گیا تاکہ وہ نیویارک میں مقدمے کا سامنا کرسکے۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ جرم کے اعتراف کے بعد وفاقی قوانین کے تحت انہیں تقریباً 40 برس تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
متاثرہ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نیویارک میں قائم تنظیم Sikhs for Justice کے سربراہ ہیں۔ وہ امریکی شہری ہیں اور بھارتی ریاست پنجاب کی آزادی کے حامی سمجھے جاتے ہیں۔ وہ طویل عرصے سے خالصتان تحریک سے متعلق سرگرمیوں میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے Bloomberg کی ایک رپورٹ کے مطابق عدالتی شواہد میں نکھل گپتا اور مبینہ بھارتی اہلکار کے درمیان سینکڑوں واٹس ایپ پیغامات اور ای میلز شامل ہیں، جن میں ہدف، ہتھیاروں کی فراہمی اور منصوبہ بندی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیپال اور پاکستان میں بھی ایک اور ہدف کے خلاف کارروائی کی بات چیت ہوئی تھی۔
مزید برآں، یہ کیس 2023 میں کینیڈا میں خالصتان کے سرگرم کارکن ہر دیپ سنگھ کے قتل کے پس منظر سے بھی جوڑا جا رہا ہے، جس نے امریکا اور بھارت کے تعلقات میں حساسیت پیدا کی تھی۔ بھارتی حکومت نے ابتدا میں ان الزامات کو مسترد کیا تھا، تاہم بعد ازاں اعتراف کیا گیا کہ ایک فرد کو انٹیلی جنس ادارے سے برطرف کیا گیا ہے۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ عالمی سطح پر سکھ برادری کو لاحق مبینہ خطرات کے تناظر میں نہایت سنجیدہ ہے اور اس پر امریکا نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ کیس امریکا اور بھارت کے سفارتی تعلقات پر اثرانداز ہو سکتا ہے، جب کہ آئندہ عدالتی کارروائی اور سزا کا تعین آنے والے دنوں میں کیا جائے گا۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں