اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان تیسرے ششماہی معاشی جائزے کے سلسلے میں مذاکرات دوسرے روز بھی جاری رہے۔
فنڈ کا وفد کراچی میں اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ حکام کے ساتھ تکنیکی سطح پر تفصیلی بات چیت کر رہا ہے، جس میں رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے معاشی اعداد و شمار، مالیاتی اہداف اور بیرونی شعبے کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفد کو زرمبادلہ کے ذخائر، شرح مبادلہ کی صورتِ حال، مالیاتی پالیسی کے اقدامات اور افراطِ زر پر قابو پانے کے لیے کی گئی حکمت عملی سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے انسداد سے متعلق اقدامات پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ گورنر اسٹیٹ بینک اور اعلیٰ انتظامیہ نے مالیاتی نظام کے استحکام اور بینکاری شعبے کی نگرانی سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔
فنڈ کے وفد کی نجی شعبے کے نمائندوں سے بھی اہم ملاقاتیں طے ہیں۔ آج اوورسیز سرمایہ کاروں کے ایوانِ تجارت کے عہدیداران سے مشاورت کی جائے گی جبکہ جمعہ کو پاکستان بزنس کونسل کے نمائندوں سے ملاقات متوقع ہے۔ ان نشستوں میں کاروباری برادری کو درپیش مسائل، سرمایہ کاری کے ماحول اور معاشی پالیسیوں کے اثرات پر گفتگو ہوگی۔
وفد ہفتے کو اسلام آباد روانہ ہوگا جہاں پیر سے وزارتِ خزانہ کے حکام کے ساتھ مذاکرات کا اگلا مرحلہ شروع کیا جائے گا۔ یہ مذاکرات توسیعی فنڈ سہولت کے تحت جاری پروگرام کے تیسرے جائزے کا حصہ ہیں، جس میں محصولات کی وصولی، اخراجات میں نظم و ضبط اور بیرونی مالیاتی منصوبے پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق حکومت طے شدہ بیرونی مالیاتی منصوبے پر عمل جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ بعض ادائیگیوں کی مدت میں عارضی توسیع سے متعلق امور بھی زیرِ غور ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات آئندہ مالی معاونت کی قسط کے اجرا اور مجموعی معاشی استحکام کے لیے نہایت اہمیت رکھتے ہیں، اور ان کے نتائج آنے والے مہینوں میں ملکی معیشت کی سمت کا تعین کریں گے۔