اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں شدت لانے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئندہ چند ہفتے انتہائی اہم ہوں گے اور فوجی کارروائیاں مزید تیز کی جا سکتی ہیں۔
امریکی عوام سے خطاب میں صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران امریکی افواج نے ایران کے اہم عسکری ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا اور کئی اہم اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق آپریشن اپنے اہم مراحل طے کر چکا ہے اور اب اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔
صدر نے کہا کہ ایران کی جانب سے ممکنہ خطرات میں نمایاں کمی آئی ہے اور اس کے اسٹریٹجک عزائم کو نقصان پہنچا ہے، تاہم مکمل اہداف کے حصول تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ انہوں نے ایران کی توانائی تنصیبات کو بھی ممکنہ ہدف قرار دیا۔
ٹرمپ نے ایرانی حکومت پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ دہائیوں میں عوامی مظاہروں کو طاقت کے ذریعے دبایا گیا، البتہ انہوں نے ان دعوؤں کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
خطاب کے دوران امریکی صدر نے مشرق وسطیٰ کے اتحادی ممالک، جن میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، کویت اور بحرین شامل ہیں، کے تحفظ کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔
تیل کی عالمی منڈیوں پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا اب توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہو چکا ہے اور مشرق وسطیٰ کے تیل پر پہلے جیسا انحصار نہیں رہا۔ صدر نے مزید کہا کہ خطے میں کشیدگی کے باعث تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، تاہم صورتحال جلد معمول پر آ سکتی ہے۔
ٹرمپ کے مطابق خطے میں جاری تنازع اپنے اختتامی مراحل میں داخل ہو رہا ہے اور جیسے ہی کشیدگی کم ہوگی اہم بحری گزرگاہیں، خصوصاً آبنائے ہرمز، خود بخود بحال ہو جائیں گی۔