اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)البرٹا حکومت نے آج سے صوبے کے رہائشیوں کے لیے 100 ڈالر کی ایک مرتبہ ملنے والی توانائی رعایت کے لیے درخواستیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں۔
البرٹا کی پریمیئر ڈینیئل اسمتھ نے جون کے اوائل میں اس رعایت کا اعلان کیا تھا۔ حکومت نے پٹرول پر ٹیکس میں کمی جاری رکھنے کے بجائے شہریوں کو براہِ راست مالی امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکومت کی نئی پالیسی کے تحت وہ تمام البرٹا کے رہائشی درخواست دینے کے اہل ہیں جن کی عمر 18 سال یا اس سے زیادہ ہو، جنہوں نے 2025 کا آمدنی ٹیکس گوشوارہ جمع کرایا ہو، اور جن کے گھرانے کی سالانہ آمدنی 2 لاکھ 25 ہزار ڈالر یا اس سے کم ہو۔
اہل افراد صوبائی حکومت کی ویب سائٹ کے ذریعے درخواست جمع کرا سکتے ہیں۔
اس منصوبے کے تحت ہر اہل فرد کو 100 ڈالر دیے جائیں گے، جبکہ ایسے گھرانے جن میں دو بالغ افراد موجود ہوں، انہیں مجموعی طور پر 200 ڈالر ملیں گے۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے ہر اضافی اہل بالغ فرد یا 18 سال یا اس سے زائد عمر کے بچے کے لیے بھی مزید 100 ڈالر ادا کیے جائیں گے۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ رقم قابلِ ٹیکس نہیں ہوگی اور اسے قومی محصولات کے ادارے کے سامنے آمدنی کے طور پر ظاہر کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔
دوسری جانب صوبائی حکومت نے فی لیٹر 13 سینٹ کا صوبائی ایندھن ٹیکس برقرار رکھا ہے۔ پریمیئر ڈینیئل اسمتھ کا کہنا ہے کہ پٹرول پر ٹیکس میں کمی سے اس بات کی ضمانت نہیں ملتی کہ اس کا پورا فائدہ صارفین تک پہنچے، اسی لیے براہِ راست مالی امداد کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے۔
حکومت کے مطابق تقریباً 34 لاکھ البرٹا کے رہائشی اس رعایت کے اہل ہوں گے، جبکہ اس منصوبے پر 300 ملین ڈالر سے زائد لاگت آئے گی۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ کئی ماہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ادھر البرٹا حکومت رواں مالی سال 2025-26 کے لیے 4 ارب 10 کروڑ ڈالر کے بجٹ خسارے کا تخمینہ پیش کر چکی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں کے بجٹ پر حتمی اثرات کی تفصیلات سالانہ مالیاتی رپورٹ میں جاری کی جائیں گی۔