کیا ہم واقعی ایک بلیک ہول کے اندر رہ رہے ہیں؟

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کائنات سے متعلق سائنس دانوں کی تحقیق جوں جوں آگے بڑھ رہی ہے

نت نئے اور حیران کن نظریات سامنے آ رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک دلچسپ مگر متنازع تصور یہ ہے کہ ممکن ہے ہماری پوری کائنات کسی دیوہیکل بلیک ہول کے اندر موجود ہو۔ اگرچہ یہ خیال ابھی سائنسی طور پر ثابت نہیں ہو سکا، لیکن بعض مشاہدات اور نظریاتی نکات ایسے ہیں جو ماہرین کو اس امکان پر غور کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔
ماہرینِ طبیعیات کے مطابق یہ نظریہ محض قیاس آرائی نہیں بلکہ جدید فلکیاتی تحقیق اور ریاضیاتی ماڈلز سے جنم لیتا ہے۔ ذیل میں ان اہم وجوہات کی وضاحت کی جا رہی ہے جن کی بنیاد پر یہ خیال سامنے آیا۔
بلیک ہول اور کائنات کے درمیان حیران کن مماثلت
سائنس دانوں نے مشاہدہ کیا ہے کہ بلیک ہول کی اندرونی ساخت اور ہماری کائنات کے پھیلاؤ میں کچھ غیر معمولی ریاضیاتی مشابہتیں پائی جاتی ہیں۔ دونوں میں جگہ اور وقت کا رویہ عام فہم طبیعیات سے مختلف ہو جاتا ہے۔کچھ ماہرین کے مطابق یہ مماثلت محض اتفاق نہیں ہو سکتی بلکہ ممکن ہے کہ دونوں کا تعلق کسی گہرے قدرتی اصول سے ہو۔
بگ بینگ اور بلیک ہول کا تعلق
کائنات کی ابتدا بگ بینگ سے ہوئی، جس میں انتہائی گھنے اور گرم نقطے سے پوری کائنات پھیلنا شروع ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بلیک ہول کے مرکز میں بھی مادہ انتہائی کثافت اختیار کر لیتا ہے جہاں طبیعیات کے عام قوانین ناکام ہو جاتے ہیں۔اسی مماثلت کی بنیاد پر بعض سائنس دان یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ شاید بگ بینگ دراصل کسی بڑے بلیک ہول کے اندر وقوع پذیر ہوا ہو اور ہماری پوری کائنات اسی کا حصہ ہو۔
قابلِ مشاہدہ کائنات کی حد
ہم جتنا بھی طاقتور ٹیلی اسکوپ استعمال کریں، ایک خاص حد سے آگے کائنات کو نہیں دیکھ سکتے۔ اس حد کو "قابلِ مشاہدہ کائنات” کہا جاتا ہے۔کچھ ماہرین اس حد کو بلیک ہول کے ایونٹ ہورائزن سے تشبیہ دیتے ہیں — وہ سرحد جس کے پار کی معلومات باہر نہیں آ سکتیں۔اسی وجہ سے یہ خیال تقویت پکڑتا ہے کہ شاید ہم کسی بڑے بلیک ہول کے اندر موجود ہیں اور اس کی سرحد ہی ہماری مشاہداتی حد ہے۔
کوانٹم گریویٹی کی نامکمل سمجھ
ابھی تک سائنس کششِ ثقل (گریویٹی) اور کوانٹم طبیعیات کو یکجا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ یہی خلا ایسے نظریات کو جنم دیتا ہے جو عام فہم سے ہٹ کر ہوتے ہیں۔چونکہ بلیک ہول وہ جگہ ہے جہاں کوانٹم فزکس اور گریویٹی دونوں انتہائی شدت اختیار کر لیتے ہیں، اس لیے ماہرین سمجھتے ہیں کہ شاید ہماری کائنات کو سمجھنے کے لیے بلیک ہول کا تصور اہم کردار ادا کرے۔
کیا یہ حقیقت ہے یا محض نظریہ؟
سائنس دان واضح کرتے ہیں کہ فی الحال یہ خیال محض ایک سائنسی نظریہ ہے، کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ اس پر تحقیق جاری ہے اور مستقبل میں بہتر مشاہدات اور ٹیکنالوجی شاید اس راز سے پردہ اٹھا سکیں۔البتہ یہ بات طے ہے کہ کائنات کے بارے میں ہماری موجودہ سمجھ ابھی نامکمل ہے، اور ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمیں یہ جان کر حیرت ہو کہ ہم واقعی کسی عظیم بلیک ہول کے اندر زندگی گزار رہے ہیں۔

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں