اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) ایران کی جانب سے اہم سمندری گزرگا ہ آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے
جبکہ امریکا نے صورتحال کے پیش نظر مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی دستے بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔امریکی دفاعی حکام کے مطابق جدید اسٹیلتھ بمبار طیارے B-2 Spirit کو بھی خطے کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے، جنہیں ایران کے ممکنہ فوجی اہداف کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے یا وہاں کشیدگی بڑھانے کی کسی بھی کوشش کا سخت جواب دیا جائے گا کیونکہ یہ گزرگاہ عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اسی راستے سے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے، اس لیے اس علاقے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت کو شدید متاثر کر سکتی ہے۔
ادھر امریکی محکمہ دفاع نے اعلان کیا ہے کہ خطے میں اپنے اتحادیوں کے دفاع اور سمندری راستوں کے تحفظ کے لیے مزید فوجی دستے اور دفاعی سازوسامان مشرقِ وسطیٰ بھیجا جائے گا۔امریکی حکام کے مطابق اضافی فوجی تعیناتی کا مقصد خطے میں موجود امریکی اڈوں، اتحادی ممالک اور عالمی جہاز رانی کے راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تعیناتی میں جنگی طیارے، بحری جہاز اور فضائی دفاعی نظام بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے موقف اختیار کیا ہے کہ اگر ایران پر حملے جاری رہے تو وہ خلیج میں اپنی دفاعی حکمت عملی کے تحت سخت اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ایران ، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سطح پر توانائی کی منڈیوں اور سکیورٹی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر آبنائے ہرمز میں صورتحال مزید خراب ہوئی تو عالمی تیل کی ترسیل، بحری تجارت اور خطے کے سکیورٹی حالات میں بڑی تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔