اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) درست پیشگوئیوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور بابا وانگا اگرچہ برسوں قبل انتقال کر چکی ہیں
تاہم ان کی کئی پیش گوئیاں وقت گزرنے کے ساتھ حیران کن طور پر درست ثابت ہو رہی ہیں۔غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بابا وانگا نے ٹیکنالوجی کے مستقبل سے متعلق ایک ایسی پیشگوئی کی تھی جس پر اُس وقت کم ہی توجہ دی گئی، مگر آج وہ حقیقت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔رپورٹس کے مطابق بابا وانگا نے پیشگوئی کی تھی کہ آنے والے وقت میں انسان روزمرہ زندگی کے معاملات کے لیے چھوٹے الیکٹرانک آلات پر انحصار کرنے لگے گا، اور یہی آلات رفتہ رفتہ انسانوں کے ایک دوسرے سے تعلق اور رابطے کے طریقوں کو مکمل طور پر بدل دیں گے۔
پیشگوئی جو آج سچ بن چکی
اگر موجودہ دور پر نظر ڈالی جائے تو بابا وانگا کی یہ پیشگوئی درست ثابت ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ آج بچے ہوں یا بزرگ، سب ہی کمپیوٹر، ٹیبلٹس، اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیجیٹل آلات کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہ آلات نہ صرف کام کاج بلکہ تفریح، تعلیم، سماجی رابطوں اور معلومات کے حصول کا بنیادی ذریعہ بن چکے ہیں۔ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے اس وسیع استعمال کے نتیجے میں اسکرین ٹائم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جو ماہرین کے مطابق کئی سماجی اور نفسیاتی مسائل کو جنم دے رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بابا وانگا نے درست طور پر یہ بھی کہا تھا کہ جیسے جیسے انسان چھوٹے الیکٹرانک آلات پر زیادہ انحصار کرے گا، ویسے ویسے حقیقی زندگی کے تعلقات سے اس کی قربت کم ہوتی جائے گی۔ اس کا براہِ راست اثر دنیا بھر میں افراد کی ذہنی صحت پر پڑے گا۔
آج ماہرین نفسیات بھی اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل آلات کا حد سے زیادہ استعمال بے چینی، ڈپریشن اور توجہ کی کمی جیسے مسائل کو بڑھا رہا ہے، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں یہ رجحان تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے۔
بچوں پر ڈیجیٹل دنیا کے منفی اثرات
نیشنل کمیشن فار پروٹیکشن آف چائلڈ رائٹس کی ایک تحقیق کے مطابق 23.80 فیصد بچے سونے سے پہلے بستر میں اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں، اور یہ شرح عمر کے ساتھ مزید بڑھتی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس عادت کے نتیجے میں بچوں کی نیند، جسمانی صحت اور ذہنی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسکرین کے زیادہ استعمال کے باعث بچے ماضی کے مقابلے میں جسمانی سرگرمیوں میں کم حصہ لے رہے ہیں اور باہر جا کر اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیلنے اور وقت گزارنے کے مواقع بھی محدود ہو گئے ہیں۔
معیارِ زندگی بہتر، مگر قیمت بھاری
اگرچہ اسمارٹ فونز اور جدید ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو آسان اور مؤثر بنایا ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر ٹیکنالوجی کی طرح اس کے بے جا استعمال کے سنگین منفی پہلو بھی ہیں۔ اسمارٹ فون کی لت اب ایک سنجیدہ مسئلہ بنتی جا رہی ہے، جو خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں مستقبل میں وبائی صورت اختیار کر سکتی ہے۔
بابا وانگا نابینا مگر مستقبل بین
خیال رہے کہ بابا وانگا کو ان کی درست پیشگوئیوں کے باعث عالمی شہرت حاصل ہوئی۔ دہائیوں قبل انتقال کے باوجود ان کی کئی پیشگوئیاں آج بھی کسی نہ کسی صورت حقیقت بنتی دکھائی دیتی ہیں، جس پر لوگ حیرت کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگرچہ وہ نابینا تھیں، مگر مستقبل کو دیکھنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتی تھیں۔بابا وانگا کی مشہور پیشگوئیوں میں دوسری جنگِ عظیم، 11 ستمبر کے واقعات اور 2004 کے سونامی جیسے بڑے سانحات شامل ہیں، اور اب ٹیکنالوجی کے حوالے سے بھی کئی لوگ مانتے ہیں کہ انہوں نے اسمارٹ فونز اور ڈیجیٹل دور کے عروج کی پیشگوئی بہت پہلے کر دی تھی۔