بابری مسجد کے عینی شاہد،جنوبی ایشیا کی تاریخ کا معتبر گواہ،صحافی سرمارک ٹلی انتقال کر گئے

 اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانیہ کے نامور صحافی، براڈکاسٹر اور برطانوی نشریاتی ادارے

بی بی سی سے طویل عرصے تک وابستہ رہنے والے سر مارک ٹلی 90 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے انتقال سے بین الاقوامی صحافت بالخصوص جنوبی ایشیا کی رپورٹنگ کا ایک درخشاں باب بند ہو گیا ہے۔سر مارک ٹلی کو دہائیوں تک بھارت سے رپورٹنگ کے باعث ’’وائس آف انڈیا‘‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ وہ بھارت کے سیاسی، سماجی اور مذہبی معاملات پر نہایت گہری نظر رکھتے تھے اور ان کی رپورٹس کو دنیا بھر میں غیر معمولی اعتماد اور سنجیدگی سے پڑھا اور سنا جاتا تھا۔

مارک ٹلی نے 1960 کی دہائی میں بی بی سی کے لیے بھارت میں کام کا آغاز کیا اور تقریباً تین دہائیوں تک جنوبی ایشیا سے رپورٹنگ کی۔ وہ نہ صرف رپورٹر بلکہ ایک معتبر تجزیہ نگار، مصنف اور مبصر بھی تھے، جنہوں نے بھارت کو محض خبروں کے زاویے سے نہیں بلکہ اس کے سماجی تضادات اور تاریخی پس منظر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا۔سر مارک ٹلی 1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت کے عینی شاہد تھے۔ اس موقع پر انتہا پسند ہندوؤں کی جانب سے جان سے مارنے کی دھمکیوں کے باعث انہیں کئی گھنٹوں تک ایک کمرے میں محصور رہنا پڑا۔ اس واقعے پر ان کی رپورٹنگ کو غیر جانبدار اور جرات مندانہ صحافت کی مثال سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے بابری مسجد کی شہادت کو برطانیہ سے آزادی کے بعد بھارت کے سیکولر تشخص پر ’’سب سے بڑا دھچکا‘‘ قرار دیا تھا، جس پر انہیں انتہا پسند حلقوں کی جانب سے شدید تنقید اور مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑا، تاہم وہ ہمیشہ اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔مارک ٹلی نے اپنے طویل صحافتی کیریئر کے دوران بھارت میں قحط، فرقہ وارانہ فسادات، سیاسی قتل و غارت، 1984 کے سکھ مخالف فسادات، امرتسر کے گولڈن ٹیمپل پر بھارتی فوج کے آپریشن، اور بھوپال گیس سانحہ جیسے حساس اور تاریخی واقعات کی رپورٹنگ کی۔ ان کی رپورٹس میں انسانی پہلو، زمینی حقائق اور طاقتور حلقوں سے بے خوف سوالات نمایاں ہوتے تھے۔

صحافت کے ساتھ ساتھ سر مارک ٹلی ایک معروف مصنف بھی تھے۔ انہوں نے بھارت کی سیاست، مذہب اور معاشرت پر متعدد کتابیں تحریر کیں، جو آج بھی جنوبی ایشیا کی تاریخ کو سمجھنے میں اہم حوالہ سمجھی جاتی ہیں۔برطانوی حکومت نے ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’سر‘‘ کے اعزازی خطاب سے نوازا تھا۔ ان کے انتقال پر صحافتی حلقوں، دانشوروں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے اور انہیں ایک بے باک، اصول پسند اور سچ بولنے والا صحافی قرار دیا ہے۔سر مارک ٹلی کا شمار ان صحافیوں میں ہوتا تھا جنہوں نے طاقت کے سامنے جھکنے کے بجائے سچ کو ترجیح دی اور جنوبی ایشیا کے کروڑوں لوگوں کی آواز عالمی میڈیا تک پہنچائی۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں