بینک آف کینیڈا کی شرحِ سود برقرار رہنے کا امکان،کوئی بڑی تبدیلی متوقع نہیں،ماہرین

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے مرکزی بینک، بینک آف کینیڈا، کی جانب سے اس ہفتے شرحِ سود میں کسی قسم کی تبدیلی کیے جانے کا امکان انتہائی کم ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرینِ معاشیات اور مالیاتی منڈیوں کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نہ صرف بدھ کے روز ہونے والے اجلاس میں شرحِ سود برقرار رکھی جائے گی بلکہ پورے سال 2026 میں بھی یہی پالیسی جاری رہ سکتی ہے۔

بینک آف کینیڈا بدھ کے روز رواں سال کے لیے اپنی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا۔ ایل ایس ای جی ڈیٹا اینڈ اینالٹکس کے مطابق پیر کی صبح تک مالیاتی منڈیوں میں تقریباً 90 فیصد امکانات ظاہر کیے جا رہے تھے کہ مرکزی بینک شرحِ سود میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کرے گا۔

واضح رہے کہ بینک آف کینیڈا نے دسمبر 2025 میں اپنی پالیسی ریٹ کو 2.25 فیصد پر برقرار رکھا تھا، اس سے قبل سال کے دوسرے نصف میں دو مرتبہ ایک چوتھائی فیصد کی کمی کی گئی تھی۔ اس فیصلے کے موقع پر گورنر ٹف میکلم نے کہا تھا کہ موجودہ مانیٹری پالیسی معیشت میں جاری غیر یقینی صورتحال اور مہنگائی کے دباؤ کے درمیان توازن برقرار رکھنے کے لیے “تقریباً درست سطح” پر ہے۔

ٹی ڈی بینک کے ماہرِ معاشیات رِشی سوندھی کا کہنا ہے کہ شرحِ سود سے متعلق توقعات قائم کرتے وقت بینک آف کینیڈا کے بیانات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ ان کے مطابق مرکزی بینک بارہا یہ واضح کر چکا ہے کہ اگر معیشت عمومی طور پر توقعات کے مطابق چلتی رہی تو موجودہ پالیسی میں تبدیلی کی کوئی فوری ضرورت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ شرحِ سود میں تبدیلی اسی صورت ممکن ہے جب یا تو معاشی نمو نمایاں حد تک کم ہو جائے یا پھر لیبر مارکیٹ میں واضح کمزوری پیدا ہو۔

ادھر بینک آف کینیڈا کے حکام کا ماننا ہے کہ آئندہ سال مہنگائی کی شرح تقریباً دو فیصد کے ہدف کے قریب رہے گی۔ تاہم گورنر میکلم کے مطابق اگر معاشی حالات میں غیر متوقع تبدیلی آئی تو مرکزی بینک بروقت ردِعمل دینے کے لیے تیار ہے۔

سی آئی بی سی کے چیف اکنامسٹ ایوری شین فیلڈ نے بھی اس مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ دسمبر کے بعد سامنے آنے والا کوئی بھی معاشی ڈیٹا ایسا نہیں تھا جو بینک آف کینیڈا کو اپنے موجودہ فیصلے پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور کرے۔

اگرچہ دسمبر میں مہنگائی کی سالانہ شرح توقع سے زیادہ 2.4 فیصد رہی، تاہم اسی دوران بے روزگاری بڑھ کر 6.8 فیصد تک جا پہنچی، جو معیشت میں سست روی کی واضح علامت ہے۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق سال کی آخری سہ ماہی میں بھی معاشی ترقی کی رفتار کم رہی۔

ماہرین کے مطابق جب کوئی مرکزی بینک شرحِ سود میں کمی یا اضافے کے مرحلے کے اختتام پر پہنچتا ہے تو عموماً ایک سال یا اس سے زائد عرصے تک شرحِ سود کو مستحکم رکھا جاتا ہے تاکہ معیشت نئی مالی حقیقت سے ہم آہنگ ہو سکے۔

ایوری شین فیلڈ کا کہنا ہے کہ اگرچہ بدھ کے اجلاس میں شرحِ سود میں تبدیلی کی توقع نہیں، تاہم ممکن ہے کہ بینک آف کینیڈا مستقبل میں شرحِ سود میں اضافے کے خدشات کو کم کرنے کے لیے اپنے بیانیے میں نرمی لائے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ شرحِ سود سے متعلق توقعات بھی عملی فیصلوں جتنی ہی اہم ہوتی ہیں، کیونکہ یہی توقعات بانڈ مارکیٹ، مارگیج ریٹس اور کاروباری سرمایہ کاری کے فیصلوں کو متاثر کرتی ہیں۔

تاہم 2026 میں سب سے بڑا خطرہ اب بھی امریکہ کی جانب سے ممکنہ تجارتی پابندیاں اور ٹیرف قرار دیے جا رہے ہیں، جو کینیڈین معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر تجارتی حالات مزید بگڑے تو یہی عنصر بینک آف کینیڈا کو اپنی پالیسی تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں