اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے ڈنمارک کی سفیر کرسٹینا مارکس لاسن نے کہا ہے کہ افغانستان میں کالعدم ٹی ٹی پی کے تقریباً چھ ہزار جنگجو موجود ہیں جو خطے کی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ گروہ افغانستان کو اپنی محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال کر رہا ہے اور اس سے پورے خطے میں دہشت گردی کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔
سفیر نے کہا کہ طالبان حکومت کالعدم ٹی ٹی پی کو لاجسٹک سپورٹ اور دیگر قسم کی معاونت فراہم کر رہی ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک میں حملے اور جانی نقصان معمول کی بات بن گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال سے نہ صرف پاکستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا میں امن اور استحکام متاثر ہو رہا ہے۔
کرسٹینا مارکس لاسن نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اس خطرے کو سنجیدگی سے لے اور افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرے۔ ان کے مطابق عالمی تعاون اور مشترکہ کارروائیاں ہی اس بڑھتے ہوئے خطرے کو کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔
ڈنمارک کی سفیر نے اقوام متحدہ میں زور دیا کہ خطے کے ممالک اور بین الاقوامی ادارے مل کر کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف فوری اور ٹھوس اقدامات کریں تاکہ خطے میں امن، استحکام اور عوام کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب افغانستان میں طالبان حکومت اور کالعدم گروہوں کے تعلقات کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ رہی ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر فوری کارروائی نہ کی گئی تو دہشت گردی کے خطرات مزید بڑھ سکتے ہیں۔