اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں دنیا کے بلند ترین پہاڑوں میں شامل براڈ پیک پر ایک بڑا حادثہ پیش آنے کی اطلاع ہے، جہاں معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا کی قیادت میں 10 کوہ پیماؤں کی ٹیم برفانی تودہ گرنے کے بعد لاپتہ ہوگئی ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق قراقرم کے پہاڑی سلسلے میں واقع براڈ پیک پر برفانی تودہ گرنے کے بعد کوہ پیماؤں کی ٹیم سے رابطہ منقطع ہوگیا، جس کے بعد ریسکیو کارروائیاں شروع کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
براڈ پیک پر برفانی تودہ گرا
الپائن کلب آف پاکستان (اے سی پی) کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ براڈ پیک کے علاقے میں پیش آیا، جہاں شدید موسمی حالات کے دوران اچانک برفانی تودہ گرا۔
یہ بھی پڑھیں :کیوبیک کےپہاڑوں میں برفانی تودہ گرنے سے تین افراد ہلاک
کلب کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد پوری ٹیم مبینہ طور پر رابطے سے باہر ہے اور فوری طور پر ان کی موجودہ صورتحال کے بارے میں معلومات حاصل نہیں ہو سکیں۔
نرمل پرجا ٹیم کی قیادت کر رہے تھے
الپائن کلب کے مطابق لاپتہ ہونے والی ٹیم کی قیادت دنیا کے معروف نیپالی کوہ پیما نرمل پرجا کر رہے تھے۔نرمل پرجا کو دنیا کے خطرناک ترین پہاڑی مشنز مکمل کرنے والے کوہ پیماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ بلند ترین چوٹیوں کو کم ترین وقت میں سر کرنے کے عالمی ریکارڈز کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے ہیں۔واقعے کے بعد سے ان سمیت تمام ٹیم ممبران سے رابطہ کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ٹیم میں مختلف ممالک کے کوہ پیما شامل
الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اس مہم میں مجموعی طور پر 10 کوہ پیما شامل تھے۔لاپتہ ٹیم میں پانچ نیپالی کوہ پیما، ایک پاکستانی، ایک عمانی، ایک چینی اور ایک امریکی کوہ پیما شامل ہیں، جبکہ ایک اور غیر ملکی کوہ پیما کی قومیت ظاہر نہیں کی گئی۔کلب کے مطابق تمام افراد براڈ پیک مہم کے سلسلے میں علاقے میں موجود تھے۔
براڈ پیک دنیا کا 12 واں بلند ترین پہاڑ
براڈ پیک پاکستان کے گلگت بلتستان کے قراقرم سلسلے میں واقع ہے اور اس کی بلندی 8 ہزار 47 میٹر ہے۔یہ دنیا کا 12 واں بلند ترین پہاڑ ہے اور بلند چوٹیوں میں شمار ہونے کے باعث یہاں کوہ پیمائی انتہائی مشکل اور خطرناک سمجھی جاتی ہے۔شدید برفباری، برفانی تودے، تیز ہوائیں اور بدلتے موسم کوہ پیماؤں کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کرتے ہیں۔
ریسکیو آپریشن کی تیاری
الپائن کلب آف پاکستان کا کہنا ہے کہ لاپتہ کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جا رہے ہیں۔کلب کے مطابق موسم اور آپریشنل حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہیلی کاپٹر کی مدد اور دیگر دستیاب ریسکیو وسائل کو جلد از جلد متحرک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ریسکیو ٹیموں کو پہاڑی علاقے اور خراب موسم کے باعث مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
کوہ پیماؤں کے لیے خطرناک حالات
ماہرین کے مطابق آٹھ ہزار میٹر سے بلند چوٹیوں پر کوہ پیمائی انتہائی خطرناک مہم سمجھی جاتی ہے، جہاں معمولی حادثہ بھی جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
براڈ پیک پر ماضی میں بھی کئی حادثات پیش آ چکے ہیں، کیونکہ یہاں موسم اچانک تبدیل ہو جاتا ہے اور برفانی تودے گرنے کا خطرہ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔
عالمی کوہ پیمائی برادری کی نظریں پاکستان پر
واقعے کی اطلاع سامنے آنے کے بعد عالمی کوہ پیمائی برادری کی نظریں پاکستان میں جاری ریسکیو کوششوں پر مرکوز ہیں۔نرمل پرجا سمیت تمام لاپتہ کوہ پیماؤں کی بحفاظت واپسی کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں، جبکہ حکام اور متعلقہ ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔الپائن کلب آف پاکستان نے کہا ہے کہ جیسے ہی مزید معلومات حاصل ہوں گی، صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔