اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا ریونیو ایجنسی میں بدعنوانی اور ملازمین کے غیر پیشہ ورانہ رویے سے متعلق ایک بڑا انکشاف
ادارے نے گزشتہ برس کے دوران بدتمیزی، عدم تعاون، وقت کی چوری اور حساس معلومات کے غیر مجاز استعمال جیسے الزامات پر 100 سے زائد ملازمین کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ یہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب وفاقی اداروں میں شفافیت، احتساب اور عوامی اعتماد کی بحالی ایک اہم قومی بحث بن چکی ہے۔
اوٹاوا سے جاری ہونے والی تفصیلات کے مطابق، کینیڈا ریونیو ایجنسی نے سال 2025 کے دوران ملازمین کے طرزِ عمل سے متعلق مجموعی طور پر 370 کیسز ریکارڈ کیے۔ ان کیسز میں کام کی جگہ پر نامناسب رویہ، ساتھیوں اور ٹیکس دہندگان کے ساتھ بدسلوکی، سرکاری اوقات میں ذاتی کام کرنا، کام کے اوقات میں غیر حاضری کو چھپانا اور ٹیکس دہندگان کے نجی ڈیٹا تک غیر قانونی رسائی جیسے سنگین معاملات شامل تھے۔
سی آر اے کے مطابق ان 370 کیسز میں سے 266 کیسز میں ملازمین کے خلاف باضابطہ تادیبی کارروائی کی گئی۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 25 ملازمین کو فوری طور پر برطرف کر دیا گیا، جبکہ 150 ملازمین کو بغیر تنخواہ کے معطل کیا گیا۔ دیگر ملازمین کو وارننگز، تحریری سرزنش اور اصلاحی پروگرامز کا سامنا کرنا پڑا۔
ادارے کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر احتسابی عمل کا حصہ ہیں، جس کا مقصد عوامی اعتماد کی حفاظت اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ٹیکس سے متعلق حساس معلومات صرف مجاز اور ذمہ دار افراد کے ہاتھوں میں رہیں۔ سی آر اے کے ترجمان کے مطابق، ادارہ کسی بھی سطح پر بدعنوانی یا بدتمیزی کو برداشت نہیں کرتا اور ہر شکایت کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جاتی ہیں۔
تاہم، اصل ہلچل اس وقت مچی جب یہ انکشاف ہوا کہ کووڈ-19 کے دوران شروع کیے گئے کینیڈا ایمرجنسی رسپانس بینیفٹ، یعنی سی ای آر بی، سے متعلق دھوکہ دہی کے الزامات پر بھی درجنوں ملازمین کو نوکری سے نکالا جا چکا ہے۔ سی آر اے کے مطابق، 78 ایسے ملازمین کو برطرف کیا گیا جنہوں نے خود ہی فراڈ کے ذریعے سی ای آر بی کے لیے درخواست دی اور رقوم وصول کیں، حالانکہ وہ اس امداد کے اہل نہیں تھے۔
حکام کے مطابق جون 2023 سے اب تک، جب سی ای آر بی سے متعلق غلط ادائیگیوں کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کیا گیا، 300 سے زائد سی آر اے ملازمین کو ملازمت سے برطرف کیا جا چکا ہے۔ یہ تعداد نہ صرف ادارے کے اندرونی نظم و ضبط پر سوالات اٹھاتی ہے بلکہ اس بحران کی سنگینی کو بھی ظاہر کرتی ہے، جس کا سامنا کینیڈا کے وفاقی اداروں کو وبا کے بعد کرنا پڑ رہا ہے۔
سی ای آر بی پروگرام کووڈ-19 کے دوران لاکھوں کینیڈین شہریوں کے لیے زندگی کی ایک اہم سہارا ثابت ہوا تھا۔ تاہم، بعد ازاں سامنے آنے والی رپورٹس میں انکشاف ہوا کہ اس پروگرام کے تحت اربوں ڈالر کی غلط ادائیگیاں ہوئیں، جن میں عام شہریوں کے ساتھ ساتھ سرکاری اداروں کے ملازمین بھی شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے اس معاملے پر سخت تحقیقات شروع کیں اور کسی قسم کی رعایت دینے سے انکار کر دیا۔
سی آر اے کے اندر بدتمیزی اور غیر اخلاقی رویے کے کیسز نے ایک اور اہم پہلو کو بھی اجاگر کیا ہے، یعنی کام کی جگہ پر بڑھتا ہوا دباؤ اور ذہنی تھکن۔ بعض ملازمین کی یونینز کا مؤقف ہے کہ وبا کے دوران اور اس کے بعد ملازمین پر کام کا غیر معمولی بوجھ ڈالا گیا، جس کے باعث تناؤ میں اضافہ ہوا اور بعض افراد نے غیر مناسب رویہ اختیار کیا۔ تاہم، سی آر اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دباؤ کسی بھی صورت میں بدسلوکی یا بدعنوانی کا جواز نہیں بن سکتا۔
ٹیکس دہندگان کے حلقوں میں اس خبر کے بعد شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے۔ کئی شہریوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر ٹیکس جمع کرنے والا ادارہ ہی اپنے اندر نظم و ضبط برقرار نہیں رکھ سکتا تو عام شہریوں سے قوانین کی پاسداری کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر بحث جاری ہے، جہاں بعض افراد سخت کارروائیوں کو خوش آئند قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ لوگ نظامی خرابیوں کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق، یہ معاملہ وفاقی حکومت کے لیے بھی ایک چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ سی آر اے جیسے ادارے پر عوامی اعتماد معیشت کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ اگر شہریوں کو یہ احساس ہو کہ ان کی ذاتی اور مالی معلومات محفوظ نہیں یا سرکاری اہلکار خود قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں تو یہ اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے۔
سی آر اے کا کہنا ہے کہ ادارے نے آئندہ کے لیے کئی اصلاحی اقدامات متعارف کرائے ہیں، جن میں ملازمین کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانا، ڈیٹا تک رسائی کے قواعد سخت کرنا، اخلاقی تربیت کے پروگرامز میں اضافہ اور اندرونی آڈٹس کو مزید مؤثر بنانا شامل ہے۔ ترجمان کے مطابق، مقصد صرف سزا دینا نہیں بلکہ ایک ایسی پیشہ ورانہ ثقافت کو فروغ دینا ہے جہاں شفافیت اور جواب دہی بنیادی اصول ہوں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سی آر اے کا یہ اقدام دیگر وفاقی اداروں کے لیے بھی ایک مثال بن سکتا ہے، بشرطیکہ اصلاحات محض کاغذی نہ ہوں بلکہ عملی طور پر نافذ کی جائیں۔ ان کے مطابق، وبا کے بعد کے دور میں سرکاری اداروں کو نہ صرف مالی شفافیت بلکہ اخلاقی معیار کے حوالے سے بھی خود کو دوبارہ منظم کرنا ہو گا۔
اگرچہ سی آر اے کی جانب سے کی جانے والی برطرفیاں سخت نظر آتی ہیں، مگر حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ناگزیر تھے۔ ان کے مطابق، عوامی مفاد، ٹیکس دہندگان کے حقوق اور سرکاری وسائل کے تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کی نرمی نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
فی الحال، سی آر اے میں احتسابی عمل جاری ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ مہینوں میں مزید کیسز بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ جو بھی ملازم قواعد کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا جائے گا، اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی، چاہے اس کا عہدہ یا سروس کا دورانیہ کچھ بھی ہو۔