اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں طلبہ کو دی جانے والی مالی امداد میں بڑی تبدیلی کے اعلان کے بعد سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے۔
صوبائی نیو ڈیموکریٹک پارٹی کی رہنما میرٹ اسٹائلز نے حکومت کے فیصلے کو نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔
صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ طلبہ کی مالی امداد میں گرانٹ کا حصہ کم کر کے زیادہ سے زیادہ پچیس فیصد کر دیا جائے گا، جبکہ پہلے یہ شرح پچاسی فیصد تک تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب طلبہ کو زیادہ رقم قرض کی صورت میں لینی پڑے گی جسے تعلیم مکمل کرنے کے بعد واپس کرنا ہوگا۔ میرٹ اسٹائلز نے کوئنز پارک میں طلبہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایسے وقت کیا گیا ہے جب نوجوان پہلے ہی بے روزگاری اور مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے ڈگ فورڈ کے اس بیان پر بھی سخت ردعمل دیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ طلبہ کو ایسے شعبوں کا انتخاب کرنا چاہیے جہاں روزگار کے مواقع زیادہ ہوں، تاکہ وہ اپنے قرض آسانی سے واپس کر سکیں۔ اسٹائلز نے کہا کہ صوبے میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح بلند ہے اور ایسے حالات میں طلبہ کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں۔
حکومت کا دفاع، طلبہ کا احتجاج تیز
وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے اپنے مؤقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کالجوں اور جامعات کے لیے ریکارڈ مالی وسائل فراہم کر رہی ہے اور ہر سال اربوں ڈالر خرچ کیے جائیں گے۔ صوبائی حکومت کے مطابق اس فنڈ سے ایسے شعبوں میں ستر ہزار نئی نشستیں پیدا کی جائیں گی جہاں ملازمتوں کی طلب زیادہ ہے۔ ساتھ ہی آئندہ تین برسوں کے لیے فیس میں سالانہ دو فیصد تک اضافے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
ادھر عبوری لبرل رہنما جان فریزر نے کہا کہ حکومت ماضی میں تعلیمی اداروں کو مناسب وسائل فراہم کرنے میں ناکام رہی، جس کے باعث ادارے غیر ملکی طلبہ کی فیس پر انحصار کرنے لگے۔
طلبہ نمائندوں کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے مشکلات میں اضافہ کرے گی۔ ان کے مطابق قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ نوجوانوں کے مستقبل پر منفی اثر ڈال سکتا ہے اور اگر تعلیم تک رسائی مزید مشکل بنائی گئی تو صوبے کی معیشت اور افرادی قوت دونوں متاثر ہوں گی۔