سعودی عرب کو اربوں ڈالر کے ہتھیار، مشرقِ وسطیٰ میں امن یا نئی جنگوں کی بنیاد؟

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکہ کی جانب سے سعودی عرب کو تقریباً 9 ارب ڈالر مالیت کے پیٹریاٹ میزائل نظام کی فروخت

اور اس سے قبل اسرائیل کو 6.5 ارب ڈالر کے جدید فوجی سازوسامان کی منظوری نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن، اسلحہ کی دوڑ اور خطے کے مستقبل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ بظاہر یہ فیصلے دفاعی نوعیت کے قرار دیے جا رہے ہیں، مگر زمینی حقائق اور خطے کی تاریخ بتاتی ہے کہ اسلحے کی یہ فراہمی اکثر دفاع سے آگے بڑھ کر جارحانہ پالیسیوں، علاقائی کشیدگی اور بالآخر انسانی المیوں کا سبب بنتی رہی ہے۔
پینٹاگون کے مطابق سعودی عرب کو جدید پیٹریاٹ میزائل سسٹمز اور متعلقہ دفاعی آلات فراہم کیے جائیں گے، جن کا مقصد مبینہ طور پر فضائی حملوں اور بیلسٹک میزائل خطرات سے دفاع ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کو اپاچی ہیلی کاپٹرز، لائٹ وہیکلز، نیمر آرمڈ پرسنل کیریئرز کے پاور پیکس اور لاجسٹک سپورٹ سمیت بھاری عسکری سازوسامان کی فراہمی اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی روایتی اتحادی پالیسی پر بدستور قائم ہے۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ امریکا نے خطے میں اسلحے کی بڑی کھیپ فروخت کی ہو۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے مشرقِ وسطیٰ امریکی اسلحہ انڈسٹری کے لیے ایک منافع بخش منڈی رہا ہے۔ سرد جنگ کے بعد سے لے کر نائن الیون، عراق جنگ، عرب اسپرنگ اور حالیہ غزہ تنازع تک، ہر بحران کے بعد اسلحے کے سودے نہ صرف بڑھے بلکہ مزید مہلک اور جدید ہوتے چلے گئے۔
سعودی عرب کو پیٹریاٹ میزائلوں کی فراہمی کو ایران کے ممکنہ خطرے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ریاض اور تہران کے درمیان کشیدگی کوئی نئی بات نہیں، تاہم حالیہ برسوں میں چین کی ثالثی سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نسبتاً بہتری آئی تھی۔ ایسے میں سعودی عرب کو اربوں ڈالر کا جدید دفاعی نظام فراہم کرنا اس نازک سفارتی توازن کو متاثر کر سکتا ہے اور خطے میں دوبارہ عدم اعتماد کو جنم دے سکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیل کو بھاری فوجی سازوسامان کی فروخت ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب غزہ میں جاری تنازع، فلسطینی شہریوں کی ہلاکتیں اور انسانی بحران عالمی سطح پر شدید تنقید کا باعث بن چکے ہیں۔ اسرائیل کی عسکری طاقت میں مزید اضافہ نہ صرف فلسطینی علاقوں میں طاقت کے عدم توازن کو بڑھاتا ہے بلکہ امریکا کے اس دعوے کو بھی کمزور کرتا ہے کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کا خواہاں ہے۔
یہاں یہ سوال ناگزیر ہو جاتا ہے کہ کیا امریکا واقعی خطے کے استحکام کے لیے یہ اسلحہ فروخت کر رہا ہے یا پھر اس کے پسِ پردہ معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کارفرما ہیں؟ امریکی دفاعی صنعت دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ ساز صنعت ہے، جس کا ایک بڑا حصہ حکومتی منظوریوں اور بیرونی فروخت پر انحصار کرتا ہے۔ سعودی عرب اور اسرائیل جیسے ممالک نہ صرف مالی طور پر مضبوط خریدار ہیں بلکہ امریکا کے سیاسی اور عسکری اتحادی بھی ہیں، جس کے باعث اسلحہ سودوں کو اخلاقی یا انسانی پیمانوں پر پرکھنے کے بجائے اسٹریٹجک ضرورت قرار دے دیا جاتا ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں