اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کیوبک کی قانون ساز اسمبلی کو اس وقت قانون سازی کے ایک بڑے دباؤ کا سامنا ہے، کیونکہ ارکانِ اسمبلی کے پاس صرف بارہ جون تک کا وقت باقی ہے جب موسمِ گرما کی تعطیلات کے لیے اجلاس ختم ہو جائے گا۔
اسی دوران اکتوبر میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر یہ اجلاس آخری موقع سمجھا جا رہا ہے جب سیاسی جماعتیں معمول کے مطابق قانون سازی پر توجہ دے رہی ہیں، اس کے بعد مکمل طور پر انتخابی مہم کا آغاز ہو جائے گا۔
حکومتی جماعت کے ایجنڈے پر اب بھی انیس اہم بل موجود ہیں، جن میں توانائی والے مشروبات کے استعمال پر نوجوانوں کے لیے پابندی، گھریلو تشدد کے خلاف سخت تحفظات، کیوبک کے آئینی مسودے کی تجویز اور پیشہ ورانہ و بالغ تعلیم میں زبان سے متعلق قوانین کی توسیع شامل ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کریم بولوس کے مطابق ان میں سے کئی بل ممکن ہے قانون نہ بن سکیں، تاہم انہیں انتخابی مہم میں وعدوں کے طور پر دوبارہ پیش کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتیں ان اقدامات کے ذریعے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہیں کہ کیوبک کے مستقبل کے لیے مختلف سیاسی نظریات سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں تین بڑے سیاسی تصورات ایک دوسرے کے مقابل نظر آئیں گے پریمیئر کرسٹین فریچیٹ نے کہا کہ وہ توقع کرتی ہیں کہ تمام جماعتیں اپنی کوششیں تیز کریں گی کیونکہ شہری بہتر اقدامات کے متقاضی ہیں۔
سیاسی حالات میں یہ تبدیلی اس وقت سامنے آئی ہے جب حالیہ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق کیوبک کی علیحدگی پسند جماعت اور لبرل جماعت کے درمیان سخت مقابلہ دکھائی دے رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ گزشتہ سال کے آخر میں علیحدگی پسند جماعت کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا تھا، تاہم موجودہ حکومت کی تبدیلی کے بعد سیاسی صورتحال نسبتاً مستحکم ہوئی ہے اور اب ایک تین طرفہ مقابلے کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے۔
ان کے مطابق اس وقت سب سے اہم مسئلہ معیشت اور عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال ہے، جبکہ علیحدگی کی حمایت اب صوبے میں اکثریتی رائے نہیں رہی۔
پریمیئر نے کہا کہ حکومت شہریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور عوام کی اکثریت کسی نئے ریفرنڈم کے حق میں نہیں، کیونکہ سیاسی غیر یقینی صورتحال مزید مسائل پیدا کر سکتی ہے۔