اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز )یوکرین، برطانیہ اور فرانس کے رہنماؤں نے یوکرین کے دفاع، تعمیرِ نو اور خطے میں اسٹریٹجک استحکام کے لیے ایک کثیر القومی فوجی فورس کی تعیناتی پر متفق ہونے کا اعلان کیا ہے۔
اس معاہدے پر پیرس میں منعقد ہونے والے "کوالیشن آف دی ولنگ” سربراہی اجلاس کے اختتام پر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے دستخط کیے۔معاہدے کے مطابق، یوکرین کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں یوکرین میں فوجی دستے تعینات کیے جائیں گے۔ یہ اقدام یوکرین کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے اور خطے میں اسٹریٹجک استحکام کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس موقع پر کہا کہ اس معاہدے کی دستخط کے بعد یوکرین کی سلامتی کے حوالے سے نئی امیدیں پیدا ہوں گی۔
صدر زیلنسکی نے بتایا کہ یوکرینی وفد نے پیرس میں امریکی نمائندوں کے ساتھ مزید بات چیت کے لیے اپنے قیام میں توسیع کر دی ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد یوکرین کے لیے مستقبل کی سیکیورٹی ضمانتوں پر بات چیت کرنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے، اور امریکی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ دستاویزات تیار کرنے میں بھی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم، سب سے بڑا چیلنج علاقائی امور کے بارے میں بات چیت میں ابھی تک اتفاق رائے نہ بن پانا ہے۔
صدر زیلنسکی نے زور دیا کہ یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتیں ایسی قانونی ذمہ داریوں پر مبنی ہونی چاہئیں جن کی منظوری امریکی کانگریس سے حاصل کی جائے۔ اس بات چیت میں جنگ بندی کے بعد امن معاہدوں کی خلاف ورزیوں کی نگرانی پر بھی تفصیلی غور کیا گیا، اور امریکہ نے اس حوالے سے اپنے تعاون کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پیرس میں ہونے والے اجلاس میں برطانیہ اور فرانس کی قیادت میں 35 ممالک نے شرکت کی۔ ان ممالک نے روس کے ساتھ جنگ بندی کی صورت میں یوکرین میں فوجی دستے تعینات کرنے کے لیے اپنی آمادگی ظاہر کی۔ یوکرین کے لیے سیکیورٹی ضمانتوں اور ان پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ یہ اجلاس کیف میں ہونے والے قومی سلامتی کے مشیروں کے اجلاس کا تسلسل تھا، جس میں اس بات پر بھی بات کی گئی تھی کہ یوکرین کے دفاع کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
فرانس، برطانیہ اور یوکرین کے عسکری حکام نے اس معاہدے پر بات چیت کرنے کے دوران فوجی فورس کی تعیناتی کے حوالے سے مخصوص ہتھیاروں اور مؤثر کارروائی کے بارے میں تفصیلی کام کیا ہے۔ یہ فورس یوکرین کی سرحدوں کی حفاظت اور اس کے دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے کے لیے تشکیل دی جائے گی۔
صدر زیلنسکی نے امید ظاہر کی کہ اس معاہدے پر دستخط مستقبل قریب میں مکمل ہو جائیں گے، جس سے یوکرین کی دفاعی پوزیشن مزید مستحکم ہو گی اور عالمی سطح پر اس کی سلامتی کی ضمانتیں فراہم ہوں گی۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کے ساتھ بات چیت میں جنگ بندی کے بعد امن معاہدوں کی نگرانی کے نظام پر بھی کام جاری ہے۔اجلاس میں امریکی نمائندگان کا وفد بھی موجود تھا، جس میں اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر شامل تھے۔ ان کی موجودگی سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ امریکہ یوکرین کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔