اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ اس ہفتے ایک اہم بین الاقوامی سمٹ کی میزبانی کرے گا
جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اس سمٹ میں تقریباً 35 ممالک کے نمائندے شرکت کریں گے، جبکہ اجلاس کی میزبانی برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کریں گی۔ اس اہم اجلاس کا مقصد ان سفارتی، سیاسی اور ممکنہ سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ لینا ہے جو دنیا کی اہم ترین توانائی ترسیل کی بحری گزرگاہ کو بحال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سمٹ کے بعد فوجی ماہرین اور منصوبہ سازوں کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ یہ جائزہ لیا جا سکے کہ جنگ بندی کے بعد کس طرح آبنائے ہرمز کو محفوظ اور قابلِ استعمال بنایا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے عسکری اور سفارتی کوششوں کو یکجا کرنا ضروری ہوگا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جہاز رانی، مالیات اور توانائی کے شعبوں سے وابستہ برطانوی کاروباری رہنماؤں سے بھی اس حوالے سے مشاورت کی گئی ہے۔ کاروباری حلقوں کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ انشورنس نہیں بلکہ تیل بردار جہازوں کی سیکیورٹی ہے، جس کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور اس کی بندش یا غیر یقینی صورتحال عالمی معیشت پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برطانیہ کی جانب سے اس سمٹ کا انعقاد عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے