اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانیہ نے افغانستان سمیت چار ممالک کے شہریوں پر نئی ویزا پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
برطانوی وزارتِ داخلہ کے مطابق افغانستان، کیمرون، میانمار اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے طلبہ ویزے بند کیے جا رہے ہیں، جبکہ افغان شہریوں کے ورک ویزے بھی مرحلہ وار ختم کیے جائیں گے۔وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ پناہ کی درخواستوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث پہلی مرتبہ “ایمرجنسی بریک” کا نفاذ کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں ان ممالک سے آنے والے افراد کی جانب سے برطانیہ میں قیام کے بعد سیاسی پناہ کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے باعث امیگریشن نظام پر دباؤ بڑھا۔
سرکاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ عارضی اور ہنگامی نوعیت کا ہے، جس کا مقصد امیگریشن نظام کو منظم کرنا اور پناہ کے عمل کو مؤثر بنانا ہے۔ وزارتِ داخلہ نے واضح کیا کہ قومی سلامتی اور سرحدی کنٹرول کو مضبوط بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان، میانمار اور سوڈان جیسے ممالک پہلے ہی بدامنی اور انسانی بحران کا شکار ہیں، ایسے میں تعلیمی اور روزگار کے مواقع محدود کرنا متاثرہ افراد کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس اقدام کے سفارتی اور سماجی اثرات بھی مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر ان ممالک کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات اور وہاں سے آنے والے طلبہ و پیشہ ور افراد کے مستقبل پر اس کے دور رس اثرات پڑ سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے مزید تفصیلات اور نفاذ کے طریقہ کار سے متعلق رہنما اصول جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔