اردو ورلڈ کینیڈ ا ( ویب نیوز ) برٹش کولمبیا کی حکومت نے ایک اہم اور عوام دوست قدم اٹھاتے ہوئے بیمار ملازمین سے ہر بار میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کرانے کی شرط ختم کر دی ہے۔
یہ فیصلہ نہ صرف صوبے میں صحت عامہ کے شعور اور جدید سوچ کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ حکومت عملی مسائل اور انسانی ضروریات کو بہتر طور پر سمجھ رہی ہے۔نئے قواعد کے مطابق، اگر کوئی ملازم سال میں پہلی دو بار بیمار ہونے کی وجہ سے غیر حاضر ہو خواہ یہ غیر حاضری زیادہ سے زیادہ پانچ روز تک ہی کیوں نہ ہو تو آجر ان سے میڈیکل سرٹیفکیٹ طلب نہیں کر سکتا۔ یہ اصول ان حالات پر بھی لاگو ہوتا ہے جب ملازم خود نہیں بلکہ گھر کا کوئی قریبی فرد بیماری یا چوٹ کا شکار ہو جائے۔ حکومت نے نہ صرف ملازمین کے لیے آسانی پیدا کی ہے بلکہ ڈاکٹروں پر غیر ضروری انتظامی دباؤ کم کرنے کی طرف بھی توجہ دی ہے۔
وزیر صحت جوزی اوسبورن نے بجا طور پر یہ نشاندہی کی کہ بار بار ڈاکٹر کے پاس جا کر صرف ایک میڈیکل سرٹیفکیٹ لینا وقت کا ضیاع اور صحت یابی میں تاخیر کا باعث بنتا ہے۔ جب کسی فرد کو فلو ہو یا وہ کمزور ہو، تو اسے آرام اور تنہائی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ کہ ہسپتال کے ایک ایسے چکر کی جس کا مقصد صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا حاصل کرنا ہو۔ اسی طرح لیبر منسٹر جینیفر وائٹ سائیڈ نے درست کہا کہ غیر ضروری طبی وزٹ نہ صرف مریض کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ صحت کے شعبے پر اضافی بوجھ بھی ڈالتے ہیں، جس سے دیگر مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہو سکتی ہے۔
اعداد و شمار بھی اس فیصلے کی ضرورت واضح کرتے ہیں؛ صرف پچھلے سال بی سی کے ڈاکٹروں نے 1.6 ملین سے زائد بیمار نوٹ لکھے۔ یہ تعداد ظاہر کرتی ہے کہ صحت کے شعبے کا کتنا وقت اور توانائی ایسے کاموں پر صرف ہو رہی تھی جن کا عملی فائدہ نہ ہونے کے برابر تھا۔
حکومت نے انتخابی مہم کے دوران بیمار نوٹ کی ضرورت ختم کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، اسے پورا کر کے نہ صرف عوام کا اعتماد جیتا ہے بلکہ ایک ایسے نظام کی بنیاد بھی رکھی ہے جو صحت، وقار اور عملی سہولتوں پر مبنی ہے۔ یہ قدم کام کی جگہوں پر ایسے ماحول کو فروغ دے گا جہاں ملازم بیماری کو چھپانے یا نوٹ لینے کے دباؤ کے بجائے اپنا اور دوسروں کا خیال رکھتے ہوئے گھر میں صحت یاب ہونے کو ترجیح دیں گے۔
برٹش کولمبیا کا یہ فیصلہ دیگر صوبوں اور ممالک کے لیے بھی ایک مثال ہے کہ صنعتی ترقی کے ساتھ انسانی فلاح کو بھی مرکزی حیثیت دینی چاہیے۔ یہ اصول نہ صرف کام کے معیار کو بہتر بنائے گا بلکہ ایک صحت مند، ذمہ دار اور جدید معاشرتی سوچ کو بھی پروان چڑھائے گا۔