اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے برطانیہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو انتہائی مضبوط
مثبت اور باہمی اعتماد پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دونوں ممالک کی حکومتیں مسلسل رابطے میں رہتی ہیں اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دیا جا رہا ہے۔ لندن میں گفتگو کرتے ہوئے شبانہ محمود نے کہا کہ پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات تاریخی بنیادوں پر استوار ہیں اور دونوں ممالک باہمی مفادات کے تحت قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو طرفہ تعلقات میں استحکام نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ عوامی روابط میں بھی نمایاں ہے۔
برطانوی وزیرِ داخلہ نے امیگریشن نظام میں موجود خامیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ ان خامیوں کو دور کرنا ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قانونی اور غیر قانونی، دونوں اقسام کے امیگرینٹس طویل عرصے سے امیگریشن سسٹم کا غلط استعمال کرتے آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے نظام پر دباؤ بڑھا ہے۔ شبانہ محمود کے مطابق حکومت ایک مؤثر، منصفانہ اور شفاف امیگریشن سسٹم متعارف کرانے کے لیے اصلاحات پر کام کر رہی ہے۔
گفتگو کے دوران انہوں نے برطانیہ میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹ کرائمز پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ جرائم پر قابو پانے کے لیے پولیس ریفارمز ناگزیر ہو چکی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو جدید تقاضوں کے مطابق وسائل، تربیت اور اختیارات فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
شبانہ محمود نے اپنی ذاتی شناخت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو برٹش، انگلش اور برمنگھم کی رہائشی مسلمان سمجھتی ہیں، جبکہ ان کے والدین کا تعلق آزاد کشمیر سے ہے، جس پر انہیں فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی متنوع شناخت ان کی سیاست اور سوچ پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔ برطانوی وزیرِ داخلہ نے گفتگو کے اختتام پر بتایا کہ انہیں پاکستانی کھانے بے حد پسند ہیں اور وہ خود بھی اچھا کھانا پکاتی ہیں۔ ان کی پسندیدہ ڈشز میں پالک گوشت اور قیمہ شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ویک اینڈ پر جب وہ گھر جاتی ہیں تو والدہ کے ہاتھ کے بنے پاکستانی کھانے ضرور کھاتی ہیں، جو ان کے لیے جذباتی وابستگی اور سکون کا باعث ہوتے