اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) امریکی درخواست پر برطانیہ نے اپنے فوجی دستے اسرائیل بھیج دیے ہیں تاکہ غزہ امن منصوبے پر عمل درآمد کی نگرانی کی جا سکے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق ایک اعلیٰ برطانوی فوجی کمانڈر سمیت محدود تعداد میں فوجیوں کو اسرائیل روانہ کیا گیا ہے۔ یہ اقدام امریکی حکومت کی درخواست پر کیا گیا تاکہ خطے میں امن کے لیے بنائے گئے منصوبے کی پیش رفت اور اس کے نفاذ پر براہِ راست نظر رکھی جا سکے۔
برطانیہ کے وزیرِ دفاع جان ہیلی (John Healey) نے لندن میں بزنس لیڈرز سے خطاب کے دوران اس فیصلے کی تصدیق کی۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی افواج اپنی خصوصی مہارت اور تجربے کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں طویل المدتی امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہیں۔جان ہیلی کے مطابق ایک سینئر برطانوی افسر کو امریکی کمانڈر کا ڈپٹی کمانڈر مقرر کیا گیا ہے جو ایک سول و ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر (Civil-Military Coordination Centre) کے انتظامات سنبھالے گا۔یہ مرکز مصر، قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے فوجی نمائندوں پر مشتمل ہو گا اور غزہ میں انسانی امداد، تعمیرِ نو اور سیکیورٹی سے متعلق اقدامات کی نگرانی کرے گا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ کی نئی وزیرِ خارجہ **ایویٹ کوپر (Yvette Cooper)** نے صرف ایک ہفتہ قبل کہا تھا کہ حکومت کے پاس اسرائیل میں فوجی بھیجنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ تاہم تازہ امریکی درخواست اور خطے کی نازک صورتِ حال کے پیشِ نظر لندن نے اپنا موقف تبدیل کر لیا ہے۔برطانوی حکومت کے مطابق یہ تعیناتی محدود مدت کے لیے ہے اور اس کا مقصد خطے میں استحکام لانا اور غزہ امن منصوبے کے موثر نفاذ کو یقینی بنانا ہے۔