اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)کینیڈا کے وزیرِ اعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ کینیڈا کا چین کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کرنے کا “کوئی ارادہ نہیں” ہے۔اتوار کے روز اوٹاوا میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہم چین یا کسی بھی غیر مارکیٹ معیشت کے ساتھ ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔
چین کے ساتھ ہم نے صرف ان مسائل کو درست کیا ہے جو پچھلے چند برسوں میں پیدا ہوئے تھے۔کارنی نے وضاحت کی کہ براعظمی تجارتی معاہدے، جسے CUSMA کہا جاتا ہے، کے تحت کینیڈا کسی بھی غیر مارکیٹ معیشت کے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کرنے سے پہلے متعلقہ فریقوں کو اطلاع دینے کا پابند ہے۔ غیر مارکیٹ معیشت سے مراد وہ معیشتیں ہیں جہاں حکومتی کنٹرول مارکیٹ فورسز سے زیادہ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں :مارک کارنی کی تقریر پر تنازعہ،میدانِ ابراہام سے متعلق بیان پر کیوبیک کی سیاسی قیادت برہم
وزیرِ اعظم کے یہ بیانات ایک دن بعد سامنے آئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر کینیڈا چین کے ساتھ تجارتی معاہدہ کرتا ہے تو وہ کینیڈا پر 100 فیصد ٹیرف عائد کریں گے۔
کارنی نے یہ نہیں بتایا کہ آیا انہوں نے ہفتے کے روز دی گئی اس دھمکی کے بعد صدر ٹرمپ سے بات کی ہے یا نہیں۔حال ہی میں کینیڈا نے چین میں تیار کی گئی الیکٹرک گاڑیوں پر عائد 100 فیصد ٹیرف کو کم کرکے 6.1 فیصد کرنے پر اتفاق کیا ہے، تاہم اس کے لیے سالانہ حد 49 ہزار گاڑیاں مقرر کی گئی ہے۔
اس کے بدلے میں توقع کی جا رہی ہے کہ چین کینیڈا کی زرعی مصنوعات، جن میں لابسٹر، کیکڑا اور کینولا شامل ہیں، پر عائد زیادہ تر جوابی ٹیرف میں نرمی کرے گا۔