اردوورلڈکینیڈا( ویب نیوز)یورپی موسمیاتی ادارے کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال عالمی سطح پر ریکارڈ کے لحاظ سے تیسرا گرم ترین سال ثابت ہوا اور دنیا ایک خطرناک موسمیاتی حد کو عبور کرنے کے بالکل قریب پہنچ گئی۔ کوپرنیکس کلائمیٹ سروس کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2025 میں عالمی درجہ حرارت صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں تقریباً 1.47 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہا، جبکہ اس سے ایک سال قبل یہ اضافہ 1.6 ڈگری تک پہنچ چکا تھا۔
جب 2023، 2024 اور 2025 کے اعداد و شمار کو یکجا کیا جائے تو یہ تاریخ کا پہلا تین سالہ دور بنتا ہے جس میں اوسط درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کر گیا۔ ماہرین کے مطابق موجودہ رفتار برقرار رہی تو 2015 کے پیرس معاہدے میں طے کی گئی 1.5 ڈگری کی حد اس دہائی کے اختتام تک پہنچ سکتی ہے، جو معاہدے کے وقت لگائے گئے اندازوں سے تقریباً دس سال پہلے ہے۔
کینیڈا کے کئی صوبوں میں شدید گرمی کی لہر، درجہ حرارت 40 ڈگری سے تجاوز کا امکان
کینیڈا میں صورتحال عالمی اوسط سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ برف اور سمندری برف کے تیزی سے پگھلنے کے باعث سورج کی روشنی منعکس ہونے کے بجائے زمین اور سمندر میں جذب ہو رہی ہے، جس سے درجہ حرارت مزید بڑھ رہا ہے، خاص طور پر شمالی علاقوں میں۔
اعداد و شمار یہ بھی بتاتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کینیڈین زندگی کو کئی سطحوں پر متاثر کر رہی ہے۔ 2025 میں ملک کو ریکارڈ کی دوسری بدترین جنگلاتی آگ کے موسم کا سامنا کرنا پڑا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق 89 ہزار مربع کلومیٹر سے زائد رقبہ جل کر راکھ ہو گیا، جو تقریباً پرتگال کے رقبے کے برابر ہے۔ یہ تیسرا مسلسل سال تھا جب کینیڈا میں آگ کی شدت غیر معمولی رہی۔ ہزاروں افراد کو گھروں سے بے دخل ہونا پڑا اور بیرونِ ملک سے فائر فائٹرز کو مدد کے لیے بلایا گیا۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں جلنے والا رقبہ 1970 کی دہائی کے اوائل کے مقابلے میں تین گنا سے زیادہ ہو چکا ہے، جس کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی موسمیاتی تبدیلی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافے سے آگ کا موسم طویل ہو رہا ہے، آسمانی بجلی کے امکانات بڑھ رہے ہیں اور جنگلات زیادہ خشک ہو رہے ہیں۔
جنگلاتی آگ کے ساتھ ساتھ شدید موسمی طوفان بھی کینیڈین معیشت پر بھاری بوجھ ڈال رہے ہیں۔ انسٹیٹیوٹ فار کیٹا اسٹروافک لاس ریڈکشن کے مطابق کینیڈا میں سالانہ اوسطاً 9.2 ارب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے، جس میں سیلاب، ژالہ باری، آندھیاں اور دیگر شدید موسمی واقعات شامل ہیں۔ یہ نقصان مہنگائی کے حساب سے 1980 کی دہائی کے بعد ہر سال اوسطاً 9 فیصد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھ رہا ہے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگرچہ ہر نقصان کو براہِ راست موسمیاتی تبدیلی سے نہیں جوڑا جا سکتا، لیکن یہ تبدیلیاں ایسے واقعات کے امکانات اور شدت کو نمایاں طور پر بڑھا رہی ہیں۔ حالیہ برسوں میں کیلگری کی شدید ژالہ باری، جیسپر کی جنگلاتی آگ اور جنوبی اونٹاریو میں سیلاب جیسے واقعات نے نہ صرف اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا بلکہ کینیڈین شہریوں کے لیے گھروں کے بیمہ کی لاگت میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔
یہ تمام اعداد و شمار اس بات کی واضح علامت ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ حال کا بحران بن چکی ہے، جس کے اثرات کینیڈا سمیت پوری دنیا میں روزمرہ زندگی کو بدل رہے ہیں۔