اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا کی وفاقی حکومت نے ممنوعہ اسالٹ طرز کے آتشیں اسلحے کے لیے ایک باقاعدہ معاوضہ پروگرام کا آغاز کر دیا ہے
پروگرام کے تحت ایسے اسلحہ کے مالکان کو ہتھیار حکومت کے حوالے کرنے یا مستقل طور پر ناکارہ بنانے کے بدلے مالی ادائیگی کی جائے گی۔ اس پروگرام میں شرکت کے لیے اسلحہ رکھنے والے افراد کو 31 مارچ 2026 تک اپنی شمولیت کا اعلان کرنا ہوگا۔ وزیرِ عوامی تحفظ گیری آنندسنگری نے مونٹریال میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام عوامی تحفظ کو یقینی بنانے اور اسلحہ کے ذریعے ہونے والے تشدد میں کمی کے لیے اٹھایا گیا ہے، کیونکہ اسالٹ طرز کے ہتھیار دراصل جنگ کے لیے بنائے گئے تھے اور ان کا شہری معاشرے میں کوئی جواز نہیں۔
حکومتی اعلامیے کے مطابق یہ پروگرام رضاکارانہ بنیادوں پر ہے اور اہل افراد وہی ہوں گے جن کے پاس درست Possession and Acquisition Licence (PAL) موجود ہے۔ درخواستیں آن لائن یا بذریعہ ڈاک جمع کروائی جا سکیں گی، جبکہ معاوضہ زیادہ تر “پہلے آئیں، پہلے پائیں” کی بنیاد پر دیا جائے گا، جو دستیاب بجٹ سے مشروط ہوگا۔ اعلان کے بعد منظور شدہ افراد کو RCMP، مقامی پولیس یا موبائل کلیکشن یونٹس کے ذریعے اپنے ممنوعہ ہتھیار جمع کروانے کے لیے وقت دیا جائے گا، جہاں تصدیق کے بعد ان ہتھیاروں کو تباہ کر دیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نے بتایا کہ مئی 2020 سے اب تک تقریباً 2,500 اقسام کے اسالٹ طرز کے ہتھیاروں پر پابندی عائد کی جا چکی ہے، جن میں AR-15 جیسے ہتھیار بھی شامل ہیں۔ ان ممنوعہ ہتھیاروں کو 30 اکتوبر 2026 تک لازمی طور پر حکومت کے حوالے کرنا، مستقل طور پر ناکارہ بنانا یا مناسب اجازت کے ساتھ ملک سے برآمد کرنا ہوگا۔ مقررہ تاریخ کے بعد اسلحہ رکھنے والوں کو فوجداری کارروائی اور اسلحہ لائسنس کی منسوخی جیسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
حکومت نے اس پروگرام کے لیے تقریباً 250 ملین ڈالر مختص کیے ہیں، جن سے اندازاً 136 ہزار ہتھیاروں کے بدلے معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ سیکریٹری آف اسٹیٹ ناتالی پرووست کے مطابق یہ اقدام کینیڈا میں بڑے پیمانے پر فائرنگ جیسے واقعات کو روکنے اور عوامی تحفظ کو مضبوط بنانے کی طویل جدوجہد کا حصہ ہے، جس کا مطالبہ کینیڈین عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے کرتے آ رہے ہیں۔
تاہم اس پروگرام کو کئی صوبوں کی مخالفت کا سامنا ہے، جن میں البرٹا، اونٹاریو، نیو برنسوک، ساسکچیوان اور مینی ٹوبا شامل ہیں۔ ان صوبوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس پروگرام پر عملدرآمد میں وفاقی حکومت کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اس کے علاوہ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف مہنگا ہے بلکہ مؤثر بھی ثابت نہیں ہو رہا۔
کینیڈین ٹیکس پیئرز فیڈریشن نے اس پروگرام کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کیپ بریٹن میں کیے گئے ایک پائلٹ منصوبے کے دوران 200 کے ہدف کے مقابلے میں صرف 25 ہتھیار جمع کیے جا سکے۔ تنظیم کے مطابق حکومت کو قانونی اسلحہ رکھنے والوں سے ہتھیار
واپس لینے کے بجائے غیر قانونی اسلحہ کی اسمگلنگ اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی پر توجہ دینی چاہیے۔اسی طرح اسلحہ مالکان کی تنظیم کینیڈین کولیشن فار فائر آرم رائٹس نے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ حالیہ پابندیوں کے تحت دو ملین سے زائد ہتھیار ممنوع قرار دیے جا چکے ہیں، جبکہ حکومت صرف ڈیڑھ لاکھ کے قریب ہتھیاروں کا معاوضہ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق بجٹ ختم ہونے کے بعد زیادہ تر اسلحہ مالکان کو کوئی ادائیگی نہیں ملے گی، جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوگا۔
وفاقی حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ معاوضہ پروگرام بندوقوں کے ذریعے ہونے والے تشدد میں کمی لانے کی ایک وسیع حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس میں RCMP اور بارڈر سروسز میں اضافی بھرتیاں، ہینڈگنز تک رسائی محدود کرنا اور قومی اسلحہ درجہ بندی کے نظام کا ازسرِنو جائزہ بھی شامل ہے۔ حکومت کے مطابق ان اقدامات کا مقصد کینیڈین معاشرے کو زیادہ محفوظ بنانا ہے۔