کینیڈا ،رِزڈیپلام علاج روکنے کا فیصلہ اور مانٹوبا میں مریض کی زندگی

اردو ورلڈ کینیڈا ( ویب نیوز ) کینیڈا جیسے ترقی یافتہ ملک میں یہ المیہ اپنی شدت کے ساتھ سامنے آیا ہے کہ ایک ایسا مریض، جس کی ہر سانس اور جسم کی ہر معمولی حرکت ایک بڑے معرکے سے کم نہیں۔

اپنی زندگی بچانے کے لیے حکومت اور کمپنیوں کے درمیان فیصلوں کا منتظر ہے۔ یہ صورتِ حال نہ صرف دل خراش ہے بلکہ ایک بڑے سوال کو جنم دیتی ہے: **کیا کسی انسان کی بقاء کا سوال بیوروکریسی، بجٹ شیٹس اور پالیسی نوٹس سے زیادہ اہم نہیں ہونا چاہیے؟
جیریمی بری ایک نام، ایک جدوجہد، اور امید کی آخری کرن
جیریمی بری، جو محض 30 سال کا ہے، آہستہ آہستہ زندہ جسم میں قید ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی پٹھوں کی بیماری نے اس کے ہاتھ، بازو، ٹانگیں، یہاں تک کہ سر کی حرکت بھی چھین لی ہے۔ وہ صرف ایک انگوٹھے اور چہرے کے چند عضلات کے ذریعے دنیا سے رابطہ رکھتا ہے۔ مگر مئی میں شروع ہونے والا علاج— *رِزڈیپلام (Evrysdi)*— نہ صرف اس کی بیماری کو روک رہا تھا بلکہ اسے ایک نئی زندگی کی جھلک بھی دکھا رہا تھا۔اس کی آواز بہتر ہوئی، چہرے کی حرکات واپس آئیں، کام کے گھنٹے بڑھے زندگی میں پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ وہ صرف مزید خراب نہیں ہو رہا، بلکہ شاید بہتر ہو سکتا ہے۔مگر اب، یہ امید اس سے چھینی جا رہی ہے۔
حکومت کے پاس دلیلیں، مگر انسانیت کا کیا؟
رِزڈیپلام کی قیمت بہت زیادہ ہے — پہلے سال تقریباً 3 لاکھ ڈالر — اور کینیڈا کی ڈرگ ایجنسی اسے 25 سال سے زائد عمر کے مریضوں کے لیے تجویز نہیں کرتی کیونکہ اس عمر میں کلینیکل شواہد کم ہیں۔لیکن سوال یہ ہےکہ جب کوئی علاج کسی مریض پر واضح طور پر کام کر رہا ہو، تو کیا "شواہد کی کمی” کی بنیاد پر اس کی زندگی کو خطرے میں ڈال دینا جائز ہے؟دیگر صوبے—اونٹاریو، ساسکچیوان، البرٹا—کچھ مریضوں کے لیے اس علاج کو فنڈ کر رہے ہیں۔کیوبیک تو بالکل عمر کی شرط نہیں لگاتا، اور وہاں کے ڈاکٹر کے مطابق اس کے 90 فیصد بالغ مریضوں نے فائدہ اٹھایا ہے۔تو پھر سوال یہ بنتا ہےکہکیا مانٹوبا میں انسانوں کی قدروقیمت باقی صوبوں سے کم ہے؟
مریض کہتا ہے: "میری بہتری چھین لی جائے گی”کمپنی کا کہنا ہے کہ مفت دوا دینا ممکن نہیں—اور یہ بات معاشی اصولوں کے لحاظ سے درست بھی ہے—مگر انسانیت کی سطح پر یہ پالیسی بےحسی کا احساس چھوڑتی ہے۔ آخر کب تک ایک انسان کی زندگی کمپنی اور حکومت کے درمیان "ناقص شواہد” اور "ٹکاؤ پالیسی” کے مباحثے کا ایندھن بنتی رہے گی؟
جب دوا کام کرتی ہے، مریض بہتر ہوتا ہے، ڈاکٹر فائدے کی تصدیق کرتے ہیں تو پھر اسے روکنے کا فیصلہ زندگی چھیننے کے مترادف ہے مانٹوبا حکومت کو چاہیے کہ اس فیصلے کو صرف اخراجات کے زاویے سے نہ دیکھے، بلکہ انسانی وقار، اخلاقی ذمہ داری، اور اپنے شہریوں کی بقاء کے حق کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے۔کیونکہ بعض فیصلے صرف بجٹ سے نہیں، ضمیر سے کیے جاتے ہیں۔وقت تھوڑا ہے۔علاج رکنے سے پہلے اگر حکومت نے قدم نہ اٹھایا، تو شاید جیریمی کی چھینی گئی امید اس کا سب سے بڑا نقصان ثابت ہوگی — ایک ایسا نقصان جو کبھی پورا نہیں ہوگا۔

 

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں