خلا میں سرمایہ کاری کے لیے کینیڈا کو خطرات قبول کرنا ہوں گے،ماہرین کی رائے

اردوورلڈکینیڈا(ویب نیوز)کینیڈا کے خلائی شعبے سے وابستہ ماہرین اور اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ملک کو مستقبل میں خلا کی طرف بڑھتے ہوئے بڑے اور جرات مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے تاکہ وہ عالمی سطح پر اس میدان میں پیچھے نہ رہ جائے۔

ان کے مطابق گھریلو سطح پر خلا بازوں، کمپنیوں اور تحقیق میں سرمایہ کاری نہ صرف قومی صلاحیت کو بڑھاتی ہے بلکہ یہ آنے والی نسلوں کو بھی سائنسی میدان میں آگے بڑھنے کی ترغیب دیتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں کینیڈا کے خلائی شعبے نے ملکی مجموعی قومی پیداوار میں تقریباً تین اعشاریہ چار ارب ڈالر کا حصہ ڈالا۔ وفاقی حکومت پہلے ہی اس شعبے میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکی ہے اور امریکا کی خلائی ایجنسی اور یورپی خلائی پروگرام کے ساتھ اہم شراکت دار کے طور پر کام کر رہی ہے۔

امریکا کی میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے وابستہ معروف فلکیاتی سائنسدان سارہ سیگر کا کہنا ہے کہ کینیڈا کو امریکا کی طرح بڑے خواب دیکھنے ہوں گے۔ ان کے مطابق صرف زیادہ رقم خرچ کرنا ہی ضروری نہیں بلکہ نئے اور غیر روایتی خیالات پر عمل کرنا، خطرات قبول کرنا اور مشکل منصوبوں کو آگے بڑھانا اصل کامیابی ہے۔

سارہ سیگر، جو یونیورسٹی آف ٹورنٹو سے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کر چکی ہیں، آئندہ ستمبر میں دوبارہ کینیڈا واپس آ کر انسٹی ٹیوٹ برائے نظریاتی فلکیات سے منسلک ہوں گی تاکہ ملک میں خلائی تحقیق کی رفتار کو مزید تیز کیا جا سکے۔

ان کے مطابق خلائی شعبے میں کامیابیاں صرف سائنسی نہیں بلکہ سماجی اثر بھی رکھتی ہیں کیونکہ یہ نوجوانوں کو سائنس، ٹیکنالوجی اور انجینئرنگ کی طرف راغب کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک میں مضبوط تعلیمی اور تحقیقی ماحول بنایا جائے تو زیادہ افراد اس شعبے میں مہارت حاصل کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب کئی ماہرین کا کہنا ہے کہ خلا میں ترقی صرف سائنسی تجسس تک محدود نہیں بلکہ اس کے عملی فائدے بھی ہیں۔ سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کی مدد سے زرعی پیداوار بہتر بنانے، موسم کی پیش گوئی کرنے اور عالمی مواصلاتی نظام کو مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے۔

حالیہ برسوں میں کینیڈا نے خلا میں خودمختاری حاصل کرنے کی سمت میں بھی اہم قدم اٹھایا ہے، جس میں ایک نیا خلائی لانچ منصوبہ شامل ہے جو ملک کو مستقبل میں اپنی راکٹ لانچ کرنے کی صلاحیت فراہم کرے گا۔

ماہرین کے مطابق خلا کی معیشت کا مستقبل ابھی واضح نہیں لیکن یہ یقینی ہے کہ یہ تیزی سے بڑھ رہی ہے، اور کینیڈا کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس دوڑ میں شامل رہے تاکہ عالمی خلائی ترقی سے فائدہ اٹھا سکے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو  800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنا مختصر  تعارف کے ساتھ URDUWORLDCANADA@GMAIL.COM پر ای میل کردیجیے۔

امیگریشن سے متعلق سوالات کے لیے ہم سے رابطہ کریں۔

کینیڈا کا امیگریشن ویزا، ورک پرمٹ، وزیٹر ویزا، بزنس، امیگریشن، سٹوڈنٹ ویزا، صوبائی نامزدگی  .پروگرام،  زوجیت ویزا  وغیرہ

نوٹ:
ہم امیگریشن کنسلٹنٹ نہیں ہیں اور نہ ہی ایجنٹ، ہم آپ کو RCIC امیگریشن کنسلٹنٹس اور امیگریشن وکلاء کی طرف سے فراہم کردہ معلومات فراہم کریں گے۔

ہمیں Urduworldcanada@gmail.com پر میل بھیجیں۔

    📰 اقوامِ متحدہ سے تازہ ترین اردو خبریں